مودی حکومت میں صحافیوں کی جان خطرے میں، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا

سال 2025 میں تقریباً 14 ہزار 8 سو صحافیوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا
شائع 02 جنوری 2026 11:52am

بھارت میں آزادی اظہار رائے پر قدغنیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں اور صحافیوں کی سلامتی خطرے میں ہے۔ بھارتی جریدے دی وائر کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں تقریباً 14 ہزار 8 سو صحافیوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران آٹھ صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو تشدد کے نتیجے میں قتل کیا گیا جبکہ 117 افراد کو صرف آزادی اظہار رائے کے الزام میں قید کیا گیا۔ مزید دو سو آٹھ افراد کو قانونی کارروائی کی آڑ میں بلیک میل کیا گیا، اور کئی پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

دی وائر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارتی حکومت نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس سے آزادی اظہار رائے کے لیے ماحول انتہائی محدود اور دباؤ والا ہو گیا ہے۔ صحافیوں اور دیگر میڈیا نمائندوں کو رپورٹنگ کے دوران دھمکیاں، تشدد اور دیگر قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پرتشدد واقعات میں سب سے زیادہ خطرہ صحافیوں کو پیش آیا، جو عوامی مسائل، سیاسی امور اور سرکاری سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہیں۔ دی وائر نے حکومت کے اقدامات کو ”آزادی رائے پر قدغن“ قرار دیا اور انتہا پسند عناصر کے اثرات اور سرکاری حکمت عملی کی تفصیلات بھی سامنے لائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر مسلسل قدغن نہ صرف صحافت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عام شہریوں کی معلومات تک رسائی اور شفافیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

modi government

india

Journalists

Wire exposes