مہنگائی کے خلاف عوام کا غصہ جائز ہے، بدامنی برداشت نہیں: ایرانی سپریم لیڈر

مہنگائی اور کرنسی بحران سے عوامی غصہ قابلِ فہم ہے، تاہم اس صورتحال کو ریاست کے دشمن ہوا دے رہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای
شائع 03 جنوری 2026 05:31pm

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے پسِ منظر میں عوامی شکایات اپنی جگہ جائز ہیں، تاہم انہوں نے بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو قرار دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی جریدے (بلومبرگ) تہران میں ہفتے کے روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مہنگائی اور کرنسی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث عوامی غصہ قابلِ فہم ہے، تاہم ان حالات کو ہوا دینے میں ریاست کے دشمنوں کا کردار شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بدامنی میں فرق ہے۔ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں۔ شرپسندوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔

قبل ازیں، ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پرردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ زرمبادلہ کی شرح میں اتارچڑھاؤ سے متاثرافراد کا پرامن احتجاج ان کا جائزحق ہے، تشدد کے چند واقعات بھی سامنے آئے، امریکی صدرکوعلم ہونا چاہئےعوامی املاک پرمجرمانہ حملے ناقابل برداشت ہیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ صدرٹرمپ کا بیان سفارت کاری سے خوفزدہ عناصر کے زیراثرہے، ٹرمپ کا پیغام غیر ذمہ دارانہ اورخطرناک ہے، ایرانی عوام داخلی امورمیں کسی بھی مداخلت کو مسترد کریں گے، ایرانی مسلح افواج الرٹ ہیں، خودمختاری کی خلاف ورزی پر مسلح افواج کو معلوم ہے کہاں نشانہ بنانا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ بدامنی کی بنیادی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی بتائی جا رہی ہے، جو گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ابتدا میں احتجاج تہران کے مرکزی تجارتی علاقوں میں سامنے آیا، جہاں سیکڑوں تاجروں نے دکانیں بند کر کے مظاہرے کیے، بعد ازاں یہ سلسلہ دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ ہفتے کے روز وسطی اور جنوبی صوبہ فارس کو بدامنی کا مرکز قرار دیا گیا۔

ایران کا مغربی ممالک کے ساتھ جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے، جس کے باعث ملک کو برسوں سے سخت پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا ہے۔

ان پابندیوں کے نتیجے میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا، جبکہ حالیہ برسوں میں ہونے والے احتجاج محض معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے۔

امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ناروے میں رجسٹرڈ ہینگاؤ انسانی حقوق تنظیم نے بتایا ہے کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 132 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت کا عندیہ دے کر کشیدگی میں اضافہ کیا، اس سے قبل وہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق سخت بیانات بھی دے چکے ہیں۔

Donald Trump

Ayatollah Ali Khamenei

Seyed Abbas Araghchi

Rial Crisis

Iran Unrest

Iran Protests