بھارت: پانی میں موجود مہلک بیکٹیریا نے 10 جانیں لے لیں، 1400 متاثر
بھارتی شہر اندور کے علاقے بھاگیرتھ پورہ میں پینے کے صاف پانی میں سیوریج شامل ہونے سے شدید اسہال اور قے کی وبا پھوٹ پڑی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی جبکہ سینکڑوں افراد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ میں خطرناک فضلاتی بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اندور کے گنجان آباد علاقے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے کے صاف پانی کی سپلائی میں شامل ہو گیا، جس کے باعث شدید اسہال، قے، پیٹ درد اور تیز بخار کے کیسز سامنے آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وبا کے نتیجے میں اب تک کم از کم 10 افراد جان کی بازی ہار چکے جبکہ 1400 سے زائد مریض متاثر ہوئے۔
ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ میں پانی کے نمونوں سے ای کولی اور کلیبسیئیلا جیسے بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی ہے، جو عام طور پر انسانی آنتوں میں پائے جاتے ہیں اور وہاں نقصان نہیں پہنچاتے، تاہم اگر یہی جراثیم پینے کے پانی میں شامل ہو جائیں تو یہ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق نرمدہ پینے کے پانی کی پائپ لائن کا ایک حصہ بھاگیرتھ پورہ میں پولیس چوکی کے قریب ٹوائلٹ اور سیوریج لائن کے بالکل نیچے یا ساتھ سے گزرتا ہے، جہاں پائپ لائن میں رساؤ پیدا ہوا۔ اسی رساؤ کے باعث انسانی فضلے سے آلودہ سیوریج کا پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو گیا، جس سے پورے علاقے کی نلکوں کی سپلائی آلودہ ہو گئی۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ کئی دنوں سے نلکوں سے بدبودار اور خراب رنگ کا پانی آ رہا تھا، تاہم شکایات کے باوجود بروقت کارروائی نہ کی گئی۔ بعد ازاں بڑی تعداد میں افراد قے، دست، پیٹ درد اور تیز بخار کی علامات کے ساتھ اسپتال پہنچنے لگے۔
جنوری کے اوائل تک 1400 سے زائد افراد کا علاج کیا جا چکا تھا، جن میں سے درجنوں مریضوں کو تشویشناک حالت کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرنا پڑا، جبکہ اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ صورتحال بگڑنے پر حکام نے پائپ لائنوں کو فلش کرنے اور متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کے اقدامات شروع کیے۔














