شمالی کوریا کا ہائپرسونک میزائل کے تجربے کا دعویٰ
شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کے روز نئے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ملکی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ رواں سال شمالی کوریا کا پہلا بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس موقع پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد جوہری دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی بحران اور مختلف عالمی حالات کے پیش نظر ایسے اقدامات ضروری ہو چکے ہیں۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق رہنما کم جونگ اُن نے پیر کے روز کہا کہ اس تجربے سے شمالی کوریا کی جوہری افواج کی تیاری اور جنگ کے لیے آمادگی ظاہر ہوتی ہے۔
ان کے مطابق حالیہ عرصے میں جوہری صلاحیتوں کو عملی بنیادوں پر استوار کرنے اور حقیقی جنگ کے لیے تیار کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ یہ سرگرمیاں جوہری دفاعی صلاحیت کو بتدریج ایک اعلیٰ سطح تک پہنچانے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی بحران اور پیچیدہ عالمی حالات اس بات کی مثال ہیں کہ یہ اقدامات کیوں ضروری ہیں، جس سے ان کا اشارہ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی طرف سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے ہائپرسانک میزائلوں پر مشتمل نئے ہتھیاروں کے نظام کا پہلا تجربہ گزشتہ سال اکتوبر میں کیا تھا۔ ہائپرسانک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز ہوتے ہیں اور پرواز کے دوران راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔















