وینزویلا میں رجیم چینج کا چین پر براہِ راست اثر، بیجنگ کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد چین کو وینزویلا کے ساتھ توانائی اور معدنیات کے معاہدوں کی منسوخی کا خدشہ ہے۔
اپ ڈیٹ 05 جنوری 2026 08:04pm

امریکی اسپیشل فورسز کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی کے بعد چین نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ کوئی ملک خود کو دنیا کا ’جج‘ یا ’پولیس مین‘ نہیں سمجھ سکتا اور تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام ضروری ہے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی ناقابلِ قبول ہے، بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ ہونا چاہیے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اس واقعے پر پہلی بار عوامی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اچھی مثال قائم کرنی چاہیے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز چین نے امریکا پر وینزویلا اور اس کے صدر کے خلاف کارروائی کو ’کھلے عام طاقت کے استعمال‘ کا نام دیا تھا اور واشنگٹن پر زور دیا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرے۔

چین کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

رواں ماہ 3 جنوری کو امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی پر دنیا کے کئی ممالک منقسم ہیں۔ ایک جانب برطانیہ، اٹلی اور فرانس سمیت امریکا کے اتحادی سمجھے جانے والے ممالک اس اقدام کو درست قرار دے رہے ہیں، وہیں روس، چین، ایران اور لاطینی امریکا کے ممالک نے اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کولمبیا نے اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے، جس کی چین اور روس نے بھی حمایت کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز مادورو کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر امریکی پابندی فی الحال برقرار رہے گی۔ تاہم امریکا کچھ عرصے کے لیے وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا۔

امریکا کی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کا براہِ راست اثر چین کی معیشت پر پڑا ہے۔ پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر ایشیائی مارکیٹوں میں چینی توانائی کمپنیوں کے شیئرز گر گئے۔ چینی آئل کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی دو سے چار فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ وینزویلا سے چین کو ہونے والی تیل کی سپلائی منقطع ہو سکتی ہے جو کہ چین کی کل درآمدات کا تقریباً پانچ سے آٹھ فیصد ہے۔

امریکا کے ہمسایہ ملک وینزویلا میں ’رجیم چینج‘ کی کوشش پر چین کا ردعمل اتنا شدید کیوں ہے اور چین کو معاشی طور پر کیا خطرات لاحق ہیں۔ یہ جاننے کے لیے دونوں ملکوں کے تعلقات اور باہمی مفادات کو سمجھنا ضروری ہے۔

چین وینزویلا کے ساتھ گہرے اقتصادی اور تزویراتی تعلقات رکھتا ہے۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں 300 ارب بیرل سے زائد تیل موجود ہے اور ملکی برآمدات کا 90 فیصد سے زائد انحصار بھی اسی خام تیل پر ہے۔

رائٹرز کے مطابق نومبر میں وینزویلا کی تیل برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 9 لاکھ 21 ہزار بیرل یومیہ تک جاپہنچی تھیں۔ وینزویلا کے تیل کی سب سے بڑی منڈی ایک بار پھر چین رہا، جس نے مجموعی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد تیل وصول کیا جو اوسطاً 6 لاکھ سے 7 لاکھ 46 ہزار بیرل یومیہ تھا۔

چین وینزویلا سے ’ہیوی کروڈ آئل‘ درآمد کرتا ہے جو ملک میں سڑکوں کی تعمیر اور تعمیراتی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی معاہدے موجود ہیں، جس کے تحت چین نے وینزویلا کو تقریباً 60 ارب ڈالر قرضے کی مد میں ادا کر رکھے ہیں۔ معاہدے کے تحت وینزویلا ان قرضوں کی واپسی نقد رقم کے بجائے خام تیل کی ترسیل کی صورت میں کرتا ہے۔

چین نے وینزویلا سے تقریباً 17 سے 19 ارب ڈالر کے بقایا قرضے وصول کرنے ہیں۔ تاہم ملک میں حالیہ امریکی فوجی مداخلت اور سیاسی تبدیلیوں نے ان معاہدوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

وینزویلا کے معدنی وسائل، خاص طور پر ’اورینوکو مائننگ آرک‘ میں سونا، لوہا اور نایاب معدنیات کی موجودگی بھی چین کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

دنیا کے 92 فیصد ’ریئر ارتھ میٹلز‘ (نایاب معدنیات) کی پروسیسنگ کا کنٹرول چین کے پاس ہے۔

وینزویلا میں مادورو حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں چین نے جنوبی امریکہ میں ان معدنیات تک براہ راست رسائی حاصل کی تھی جو اب امریکا کی حامی حکومت کے اقتدار میں آنے کی صورت میں کھٹائی میں پڑسکتی ہے۔

ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ میں چین وینزویلا سمیت خطے میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر پر بڑا انحصار کرتا ہے۔ صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد چین کو خدشہ ہے کہ نئی حکومت وینزویلا کے ساتھ توانائی اور معدنیات کے معاہدوں کو منسوخ یا امریکی اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش کرے گی، جس سے چین کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

‏بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ‏وینزویلا پر امریکی حملے کا ایک مقصد بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں خصوصاً چین کی کرنسی یوآن کا بڑھتا ہوا استعمال روکنا ہے۔

وینزویلا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب ڈالر سسٹم سے خود کو آزاد کرے گا۔ جس کے بعد اس نے تیل کی خرید و فروخت میں یوآن، یورو، روبلز سمیت امریکی ڈالر کے علاوہ کسی بھی کرنسی کو قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔

‏چین نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے براہِ راست اپنی کرنسی میں سرمایہ کاری شروع کردی۔ جس سے واشنگٹن میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ دیگر ممالک بھی اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔ تاہم مادورو حکومت کے خاتمے سے اس ’ڈی-ڈالرائزیشن‘ مہم کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

وینزویلا سے مادورو حکومت کے خاتمے کو چین لاطینی امریکہ میں ایک بڑے اتحادی کو کھودینے کی نظر سے بھی دیکھ رہا ہے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق وینزویلا میں رجیم چینج چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو‘ (بی آر آئی) کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے کیونکہ وینزویلا اس خطے میں چین کا مضبوط ترین سیاسی ستون سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی وینزویلا میں براہ راست مداخلت کے بعد اب خطے کے دیگر ممالک (جیسے کیوبا اور نکاراگوا) میں بھی چینی اثر و رسوخ کمزور پڑ سکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین اپنی سرمایہ کاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے کیا کرسکتا ہے۔

چین میں قائم ادارے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے سینئر ریسرچ فیلو اینڈی موک کے مطابق بیجنگ وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اینڈی موک نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکی کارروائی سے چند گھنٹے قبل ایک چینی وفد نے وینزویلا کے حکام سے ملاقات کی تھی اور بیجنگ واشنگٹن کے اقدام پر حیران نہیں تھا، کیونکہ خطے میں امریکا کے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات بہت وسیع ہیں۔

اینڈی موک نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی امریکی انتظامیہ مونرو ڈاکٹرائن طرز کی پالیسی دوبارہ اپناتی ہے تو اس سے چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ لاطینی امریکا چین کی ’گلوبل ساؤتھ‘ حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے۔

ایک اور تجزیہ کار شان رین کے مطابق وینزویلا کے معاملے پر فوجی اقدامات کے بجائے چین کا ردِعمل زیادہ تر سفارتی احتجاج تک محدود رہے گا۔

چائنا مارکیٹ ریسرچ گروپ کے بانی شان رین نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ بیجنگ میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے لیکن اس کے اختیارات محدود ہیں۔

شان رین کے مطابق چین کے پاس امریکا جیسی فوجی طاقت نہیں، کیونکہ چین کے بیرونِ ملک صرف دو فوجی اڈے ہیں جبکہ امریکا کے دنیا بھر میں تقریباً 800 فوجی اڈے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر بھی چین جنگجو ریاست نہیں رہا۔

دفاعی ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ چین اور امریکا کے درمیان فی الحال براہِ راست جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن سفارتی اور معاشی سطح پر جنگ پہلے ہی جاری ہے ہے جو آنے والے عرصے میں عالمی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

china

Donald Trump

United States

VENEZUELA

Critical minerals

Nicholas Maduro

Chinese oil companies

Xi xinping

Chinese investments in venezuela