عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، اپوزیشن پانچ فروری کو پہیہ جام کر کے دیکھ لے: رانا ثنا اللہ

ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے: رانا ثنا اللہ
شائع 06 جنوری 2026 12:28pm

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کی، لیکن بانی پی ٹی آئی عمران خان مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

رانا ثنا اللہ نے منگل کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے عمران خان سے ملاقات کا طریقہ کار طے کیا تھا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ملاقات کے بعد کسی قسم کی سیاسی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم ملاقات کے بعد اکثر پریس کانفرنسز، ہلہ گلہ اور سیاسی جھڑپیں سامنے آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا، قانون کی پاسداری کی جائے تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر جیل حکام عدالت کے احکامات پر عمل نہیں کرتے تو انہیں براہ راست عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تھی، لیکن اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اعتماد میں لے کر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بعد مذاکرات کی پیشکش کی تھی، جسے اپوزیشن کو قبول کرنا چاہیے تھا۔

رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم تحریک کا اعلان کریں تو حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے، جبکہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ تحریک کی وجہ سے حکومت انہیں ٹریپ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے اور حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی سے انہیں نقصان ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن پانچ فروری کو پہیہ جام کر کے دیکھ لے، اس کے بعد دوبارہ بات کی جائے گی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق اگر بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے اور ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

imran khan

Rana Sanaullah

Pakistan Tehreek Insaf (PTI)