بیت المقدس میں اسرائیلی مظاہرین پر بس چڑھا دی گئی، ایک نوجوان ہلاک متعدد زخمی

آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے فوج میں لازمی بھرتی کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں
شائع 07 جنوری 2026 12:50pm

مقبوضہ بیت المقدس میں آرتھوڈوکس یہودیوں کے فوج میں لازمی بھرتی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک بس ڈرائیور نے مظاہرین کے ہجوم پر بس چڑھا دی۔ اس واقعے میں ایک کم عمر لڑکا ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

واقعہ منگل کی شام یروشلم میں پیش آیا، جہاں بار ایلان روڈ اور اس کے آس پاس کی گلیوں میں ہزاروں آرتھوڈوکس یہودی احتجاج کے لیے جمع تھے۔

طبی امدادی ادارے ’یونائیٹڈ ہتزالہ‘ کے مطابق بس پیدل چلنے والوں پر پوری رفتار سے چڑھ دوڑی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکا بس کے نیچے پھنس گیا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں نے اسے نکالا تاہم وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

اسپتال ذرائع نے ہلاک نوجوان عمر 14 سال بتائی ہے اور اس کی شناخت یوسف آئزن تھال کے نام سے کی گئی ہے۔ تین دیگر افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جنہیں علاج کے لیے حداسہ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

پولیس نے بس ڈرائیور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ڈرائیور کا کہنا ہے کہ مظاہرین بس پر چڑھ آئے تھے اور وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔

اس واقعے پر اسرائیلی سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

شاس پارٹی اور یونائیٹڈ توراہ یہودیت کے رہنماؤں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے غیر جانبدار اور سخت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور دیگر سیاسی شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر واقعے کو تشویشناک قرار دیا اور انسانی جان کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

ادھر اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران کچھ مظاہرین نے پرتشدد رویہ اختیار کیا، سڑکیں بند کیں، بسوں کو نقصان پہنچایا، کوڑے دان جلائے اور پولیس اہلکاروں اور صحافیوں پر اشیاء پھینکیں۔

پولیس کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی اور امن و امان بحال کرنے کے لیے کارروائی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے فوج میں لازمی بھرتی کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ فوجی بھرتی ان کے مذہبی طرزِ زندگی کے خلاف ہے، جبکہ حکومت اس معاملے پر قانون سازی اور عملدرآمد کے لیے دباؤ میں ہے۔

واقعے کے بعد یروشلم اور اس کے گرد و نواح میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

jerusalem

ULTRA ORTHODOX

Bus Crash

Ultra Orthodox Protest