امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک ہوئے، مادورو کی اہلیہ کے سر پر چوٹ آئی: وینزویلا کا دعویٰ
وینزویلا کے وزیرِ داخلہ دیوسدادو کابیو نے بدھ کی رات کہا کہ وینزویلا پر ہفتے کے روز ہونے والے امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس نے اس سے قبل ہلاک ہونے والے افراد کی کوئی مجموعی تعداد جاری نہیں کی تھی، تاہم فوج کی جانب سے اپنے 23 ہلاک شدہ اہلکاروں کے ناموں کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق وینزویلا حکام کا کہنا ہے کہ مادورو کے سیکیورٹی دستے کے ایک بڑے حصے کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، جبکہ کیوبا نے بھی کہا کہ وینزویلا میں موجود اس کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی اس کارروائی میں مارے گئے۔
دیوسدادو کابیو کے مطابق امریکی چھاپے کے دوران صدر مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس جنہیں مادورو کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، کے سر پر چوٹ آئی، جبکہ مادورو کی ٹانگ پر بھی زخم آئے۔
وزیرِ داخلہ وینزویلا کابیو نے منگل کو سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے ہفتہ وار پروگرام کے دوران وینزویلا کی جانب سے ان افراد کو بہادر قرار دیا تھا، اور بتایا کہ چھاپے میں مارے گئے فوجی اہلکاروں کے لیے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک کی وفاقی عدالت وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کرچکی ہے۔ سماعت کے دوران مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں پیش ہوتے ہوئے اپنے خلاف عائد تمام الزامات پر صحتِ جرم سے انکار کیا تھا۔











