گرین لینڈ کے عوام کو الحاق کے لیے راضی کرنے کا منصوبہ، وائٹ ہاؤس میں خفیہ مشاورت
امریکی حکام کے درمیان گرین لینڈ کے شہریوں کو براہِ راست مالی ادائیگیاں کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی پر آمادہ کیا جا سکے اور ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ شامل ہونے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اس معاملے سے واقف چار ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ گفتگو وائٹ ہاؤس کے اندرونی حلقوں میں ہوئی ہے، تاہم ادائیگی کی حتمی رقم اور طریقہ کار پر کوئی واضح فیصلہ نہیں ہوا۔ دو ذرائع کا کہنا ہے کہ فی کس رقم دس ہزار ڈالر سے ایک لاکھ ڈالر تک زیر غور رہی۔
رپورٹ کے مطابق، 57 ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل اس جزیرے کو حاصل کرنے کے لیے امریکا مختلف راستوں پر غور کر رہا ہے، حالانکہ کوپن ہیگن اور نوک دونوں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
ناقدین کے مطابق اس طرح کی مالی پیشکش ایک ایسے معاشرے کے لیے توہین آمیز بھی سمجھی جا سکتی ہیں جو برسوں سے اپنی آزادی اور ڈنمارک پر معاشی انحصار کے موضوع پر بحث کرتا آ رہا ہے۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے حال ہی میں ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ الحاق سے متعلق خیالات کو اب ختم ہونا چاہیے۔
یورپ بھر سے بھی امریکی بیانات پر منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔
ڈنمارک اور دیگر یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکا اور ڈنمارک نیٹو کے اتحادی ہیں اور باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں۔
فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین، برطانیہ اور ڈنمارک نے مشترکہ بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ گرین لینڈ کے ممکنہ حصول کی کوئی صورت کیا ہو سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اپنے ڈینش ہم منصب سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ تاہم ڈنمارک کے سفارتی مشن اور گرین لینڈ کے نمائندہ دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ خطہ اہم معدنی وسائل اور اسٹریٹجک محلِ وقوع رکھتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کے اندر ان منصوبوں پر سنجیدگی بڑھی ہے اور بعض عہدیداروں نے فی کس ایک لاکھ ڈالر تک کی ادائیگی پر بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر غور کیا ہے، اگر یہ منصوبہ ممکن ہوا تو ادائیگیوں کی مجموعی لاگت تقریباً چھ ارب ڈالر بنے گی۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسی کسی ادائیگی کے بدلے گرین لینڈ کے شہریوں سے کیا توقع کی جائے گی یا یہ عمل کب اور کیسے ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ فوجی مداخلت ایک امکان کے طور پر موجود ہے، مگر ترجیح سفارتی یا مالی طریقوں سے جزیرہ حاصل کرنے کی ہے۔
ایک اور تجویز آزادانہ وابستگی کے معاہدے کی ہے، جس کے تحت امریکا دفاع اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے گا اور بدلے میں فوجی رسائی اور تجارتی سہولتیں حاصل کرتا ہے۔ تاہم ایسے معاہدے کے لیے گرین لینڈ کو پہلے ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔
اگرچہ مختلف سرویز کے مطابق گرین لینڈ کے عوام کی اکثریت آزادی کی حامی ہے، مگر ڈنمارک سے علیحدگی کی معاشی لاگت کے خدشات کے باعث اب تک آزادی پر ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔
رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر گرین لینڈ کے شہری امریکا کا حصہ بننے کے حق میں نہیں ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہ بحث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کے مستقبل پر کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔












