سوتے ہوئے رال بہنا گہری نیند کی نشانی ہے یا بیماری؟

یہ ایک یا ایک سے زیادہ صحت کے مسائل کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔
شائع 10 جنوری 2026 10:56am

صبح اٹھ کر تکیے پرمنہ سے بہتی ہوئی رال دیکھنا اکثر شرمندگی کا سبب بنتا ہے، مگر یہ مسئلہ اتنا غیر معمولی نہیں جتنا لگتا ہے۔ طبی زبان میں اس حالت کو Sialorrhea کہا جاتا ہے۔

عام طور پر نیند کے دوران رال بہنا اس بات کی نشانی ہو سکتی ہے کہ آپ بہت گہری اور پر سکون نیند لے رہے تھے۔ تاہم بعض اوقات یہ ایک یا ایک سے زیادہ صحت کے مسائل کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق نیند میں رال بہنا عام ہے اور زیادہ فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ مسئلہ اکثر چہرے کی پٹھوں کے ڈھیلے ہونے، منہ سے سانس لینے یا نیند کی غلط پوزیشن جیسے عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

لیکن اگر یہ بار بار ہو، تو یہ ناک بند ہونے، معدے کی تیزابیت، دانت یا مسوڑھوں کے مسائل، یا اعصابی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق نیند میں رال بہنے کے پیچھے کئی بڑے اسباب ہو سکتے ہیں۔ دماغی یا اعصابی مسائل، جیسے اسٹروک، پارکنسن، ملٹی پل اسکلروسیس، ڈاؤن سنڈروم اور آٹزم، پٹھوں پر کنٹرول کم ہونے کی وجہ سے رال بہہ سکتی ہے۔

انفیکشنز جیسے ٹانسلائٹس، سائنوس انفیکشن یا حلق کی دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی اور ناک بند ہونا بھی رال بہنے کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ جسم یرال غدود کے ذریعے زہریلے مادے خارج کرتا ہے اور ناک کے بند ہونے پر سانس منہ کے ذریعے لی جاتی ہے۔ معدے کی تیزابیت یا ایسڈ ریفلکس بھی نیند کے دوران رال بہنے کا ایک عام سبب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رال بہنے سے بچنے کے لیے سب سے اہم بات صحیح نیند کی پوزیشن اختیار کرنا ہے۔ پیٹھ کے بل سونا، ناک کھولنا، ہائیڈریٹ رہنا اور ضرورت پڑنے پر دواؤں کے اثرات کا جائزہ لینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اگر رال بہنا زیادہ ہو یا اس کے ساتھ سانس لینے میں مشکل، نگلنے میں دشواری یا نیند کی کمی ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ بیماری کا بروقت علاج ہو سکے۔

نیند میں رال بہنا اکثر معمول کی بات ہے اور گہری نیند کی علامت بھی ہو سکتی ہے، مگراسے مستقل نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

درست نیند کی عادات، ناک کی دیکھ بھال اور صحت مند زندگی کے معمولات اس مسئلے کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔

knock of problems

saliva in sleeping

'Sialorrhea'