امریکی فوج نے صدر ٹرمپ کو ایران میں اہداف کی فہرست فراہم کر دی: برطانوی اخبار

ایران کی فوجی، سول تنصیبات اور سیکیورٹی سروسز کے ارکان بھی امریکی فوج کے ٹارگٹ پر ہیں: دی ٹیلی گراف
شائع 11 جنوری 2026 08:52pm

امریکی فوج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل اہداف کی فہرست فراہم کردی ہے جس میں ایران کی سیکیورٹی سروسز کے ارکان سمیت سول اور فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

برطانوی اخباد دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت میں ممکنہ اہداف کی فہرست پیش کر دی گئی ہے، جن میں ایران کی سیکیورٹی سروسز کے وہ افراد شامل ہیں جو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی کمانڈرز نے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل فوجی پوزیشنز کو مستحکم کرنے اور دفاعی حکمت عملی کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے تاکہ جوابی کارروائی کو ناکام بنایا جاسکے۔

برطانوی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو دی گئی بریفنگ میں تہران میں موجود غیر فوجی اہداف اور ایرانی نظام کے سیکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بناے کے آپشنز بھی دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں بار بار ایران کو دھمکی دیتے ہوئے ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے بار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

اُدھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج ٹارگٹس کے حصول کے لیے امریکی فضائی حملوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ تاہم اگر اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر جارحانہ کارروائی نہ بھی کرے تب بھی ایران کی جانب سے جوابی حملوں میں اسرائیل کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں ہفتے کی شب جرمنی سے امریکی فضائیہ کے دو ’سی 17 اے‘ فوجی طیاروں کی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانگی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا تھا امریکی حکام اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ انتہائی احتیاط سے کیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ایرانی حکومت کے خلاف جاری مظاہرے عوامی حمایت میں تبدیل نہ ہوں۔

ایران کی اعلیٰ قیادت بارہا یہ قرار دے چکی ہے کہ حالیہ احتجاج ایران کے دشمنوں کی سازش ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے حالیہ فسادات کے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدامنی، قتل و غارت اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق علی لاریجانی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران کیے گئے مجرمانہ اقدامات دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً داعش کے طریقہ کار سے مماثلت رکھتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج اور فسادات کے درمیان واضح فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایک طبقے نے معاشی مشکلات کے خلاف جائز احتجاج کیا، تاہم ایک منظم اور تخریبی گروہ نے ان معاشی مطالبات کو ہائی جیک کرتے ہوئے تشدد کو ہوا دی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ٹی وی انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ اگر عوام کو کسی قسم کے تحفظات یا مسائل درپیش ہیں تو انہیں حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم اس سے بھی بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ کسی گروہ کو پورے معاشرے کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

Israel

Donald Trump

United States

Iran

Benjamin Netanyahu

IRANI PRESIDENT

The Telegraph

US Preparing to Attack Iran