بھارت کا نیا سیکیورٹی پلان، اسمارٹ فون کمپنیوں سے سورس کوڈ مانگ لیا

بھارت نے موبائل فون کمپنیوں کو 83 سیکیورٹی معیارات پر مشتمل تجاویز پیش کردیں
شائع 12 جنوری 2026 09:04am

بھارت میں حکومت نے اسمارٹ فون صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک نیا سیکیورٹی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کے تحت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں سے سخت تکنیکی اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے سامنے آنے کے بعد ایپل، سام سنگ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے پس پردہ شدید تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی حکومت اس تجویز کے تحت اسمارٹ فون ساز کمپنیوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے فون کے آپریٹنگ سسٹم کا سورس کوڈ حکومتی اداروں کے ساتھ شیئر کریں اور اہم سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے بارے میں پیشگی اطلاع دیں۔

یہ تجاویز 83 سیکیورٹی معیارات پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانا اور سائبر حملوں کے خطرات کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

تاہم اس انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نوعیت کے اقدامات کی کوئی عالمی مثال موجود نہیں اور اس سے کمپنیوں کے خفیہ اور ملکیتی سافٹ ویئر کی معلومات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس حکمت عملی کا حصہ بتایا جا رہا ہے جس کا مقصد بھارت میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت اس وقت دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ ہے جہاں اندازاً 75 کروڑ موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں۔

بھارتی آئی ٹی سیکریٹری ایس کرشنن نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومت انڈسٹری کے جائز تحفظات کو کھلے دل سے سننے کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ابھی قبل از وقت ہے۔

وزارت آئی ٹی کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ چونکہ ٹیک کمپنیوں سے مشاورت جاری ہے، اس لیے مزید تبصرہ ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی بھارتی حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اس نوعیت کے اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔

حال ہی میں حکومت نے نگرانی سے متعلق خدشات کے باعث ایک سرکاری سائبر سیکیورٹی ایپ کو لازمی قرار دینے کا حکم واپس لیا تھا، جبکہ گزشتہ سال حکومت نے لابنگ کے باوجود سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سیکیورٹی کیمروں کی سخت جانچ کو لازمی قرار دیا تھا۔

مارکیٹ ریسرچ ادارے ’کاؤنٹرپوائنٹ‘ کے مطابق بھارت میں اسمارٹ فون مارکیٹ میں شیئر کے لحاظ سے ژیاؤمی 19 فیصد، سام سنگ 15 فیصد اور ایپل تقریباً 5 فیصد حصے کے ساتھ موجود ہیں۔

نئے مجوزہ سیکیورٹی ضوابط میں سب سے حساس نکتہ سورس کوڈ تک رسائی کا مطالبہ ہے، جس کے تحت کمپنیوں کو اپنے فون کے بنیادی پروگرامنگ کوڈ کو حکومتی نامزد لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے فراہم کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ فونز میں ایسی سافٹ ویئر تبدیلیاں بھی درکار ہوں گی جن کے ذریعے پہلے سے انسٹال ایپس کو ہٹایا جا سکے اور بیک گراؤنڈ میں کیمرے یا مائیکروفون کے استعمال کو روکا جا سکے تاکہ مبینہ طور پر غلط استعمال سے بچا جا سکے۔

بھارتی آئی ٹی وزارت کی ایک دستاویز کے مطابق ایپل، سام سنگ، گوگل اور ژیاؤمی سمیت کئی کمپنیوں نے حکام کو بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کے سیکیورٹی تقاضے نافذ نہیں کیے گئے۔

ان سیکیورٹی معیارات کا مسودہ 2023 میں تیار کیا گیا تھا، تاہم اب حکومت ان کو قانونی شکل دینے پر غور کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آئندہ دنوں حکومت اور ٹیک کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سورس کوڈ کا جائزہ اور تجزیہ ممکن نہیں کیونکہ یہ انتہائی خفیہ اور حساس معلومات ہوتی ہیں۔ ماضی میں ایپل چین اور امریکا میں بھی سورس کوڈ فراہم کرنے کے مطالبات کو مسترد کر چکا ہے۔

بھارتی صنعت کی نمائندہ تنظیم ایم اے آئی ٹی نے حکومت کو جمع کرائی گئی ایک خفیہ دستاویز میں کہا ہے کہ یورپ، شمالی امریکا، آسٹریلیا یا افریقہ کے بڑے ممالک میں اس نوعیت کے تقاضے نافذ نہیں ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے اس تجویز کو واپس لینے کی درخواست بھی کی ہے۔

بھارتی حکومت کے مجوزہ ضوابط کے تحت فونز میں خودکار اور وقفے وقفے سے میل ویئر اسکیننگ لازمی ہوگی، جبکہ کمپنیوں کو کسی بھی بڑے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ یا سیکیورٹی پیچ سے پہلے قومی ادارے کو آگاہ کرنا ہوگا، جسے ان اپ ڈیٹس کی جانچ کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل میل ویئر اسکیننگ سے بیٹری تیزی سے ختم ہوتی ہے اور فون کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جبکہ اپ ڈیٹس میں تاخیر صارفین کو سیکیورٹی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ بھارت چاہتا ہے کہ فونز میں سسٹم لاگز یعنی سرگرمیوں کا ریکارڈ کم از کم ایک سال تک محفوظ رکھا جائے، جس پر صنعت کا مؤقف ہے کہ عام صارفین کے فونز میں اتنی گنجائش موجود نہیں۔

حکومت کی جانب سے یہ بھی تجویز ہے کہ فون اگر روٹ یا جیل بریک کیا جائے تو اس کی نشاندہی ہو اور صارف کو مسلسل وارننگ دی جائے، جبکہ کمپنیوں کے مطابق اس کی قابل اعتماد جانچ کا کوئی مؤثر طریقہ موجود نہیں۔

مجموعی طور پر بھارت کا یہ مجوزہ سیکیورٹی فریم ورک ایک طرف صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے دعوے کے ساتھ سامنے آیا ہے، تو دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے عملی، تکنیکی اور عالمی معیار سے ہٹ کر قرار دے رہی ہیں۔

آئندہ مشاورت کے بعد یہ واضح ہوگا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان اس معاملے پر کس حد تک اتفاق رائے پیدا ہو پاتا ہے۔

india

google

Apple

Samsung

Smart Phone Source Code

Security Frame Work

Xiami

Indian Mobile Phone Industry