سہیل آفریدی کی مزارِ قائد پر حاضری؛ ’سندھ حکومت نے ٹوپی اور اجرک کی بے حرمتی کی‘

مزارقائد پر حاضری کے بعد سہیل آفریدی کا سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب
اپ ڈیٹ 12 جنوری 2026 02:21pm

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اثاثوں کے بعد اب عدلیہ کو بھی فروخت کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پیر کو کراچی میں مزارِقائد پر حاضری دی اور پھول رکھ کر فاتحہ خوانی کی۔ ان کے ہمراہ سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔

مزارقائد پر حاضری کے بعد سہیل آفریدی سندھ ہائی کورٹ پہنچے، جہاں انہیں صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے خوش آمدید کہا اور سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا۔

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے اور انصاف کے نظام کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا۔

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت قومی اثاثے فروخت کر چکی ہے اور اب انصاف بھی برائے فروخت بنا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھتے تھے، مگر اب عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، مگر جیل سپرنٹنڈنٹ نے ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذات کی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکالت کے پیشے کی بے حرمتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے سندھ حکومت کے رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اجرک اور سندھی ٹوپی کی بھی بے حرمتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کا دل بہت بڑا ہے اور وہ کراچی کے عوام کے بے حد مشکور ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خطوط لکھے، مگر نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی خط کا جواب دیا گیا۔ ان کے مطابق جب دیوار سے لگا دیا جائے تو پھر احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، اور آئین و قانون احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وکلا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکلا کھڑے نہیں ہوں گے تو عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا نکلیں، وکلا سے پہلے ان پر گولی چلانی پڑے گی۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پیر کو کراچی میں مزارِقائد پر حاضری دی اور پھول رکھ کر فاتحہ خوانی کی۔ ان کے ہمراہ سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔

دریں اثنا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں سخت سوالات پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ غلط سوالات کا بھی جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تنظیم کی جانب سے بہت اچھے پروگرام منعقد کیے گئے، جس پر وہ پارٹی کے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ کے عوام سب کو عزت دیتے ہیں اور ان کا دل بہت بڑا ہے، تاہم سندھ حکومت نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اجرک اور سندھی ٹوپی کے مان کو بھی برقرار نہیں رکھا، جو قابل افسوس ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات طے تھی، مگر بعد میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیغام آیا کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے، جس کے بعد ملاقات منسوخ ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے طرزِ عمل سے مایوسی ہوئی ہے اور عوام کے حقِ رائے دہی کا احترام ہر حکومت کی ذمہ داری ہے۔

cm kpk

Mazar e Quaid

sindh high court bar

Sohail Afridi