سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین مؤخر کردی گئی

تین روزہ ماتمی تقریبات تہران کےخمینی مصلیٰ میں منعقد ہوں گی
شائع 04 مارچ 2026 04:37pm

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب جو کہ پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے 10 بجے شروع ہونی تھی، ملتوی کر دی گئی ہے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ تاخیر کی وجہ انتظامی مسائل ہیں، جن میں مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے تقریب میں شرکت کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں آج رات مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جانا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس تقریب کو تین روز تک جاری رہنا تھا، جبکہ جنازے کے جلوس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جانا تھا۔

ایران کی اسلامی تبلیغاتی کونسل کے سربراہ حجت الاسلام محمودی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عوام آج رات 10 بجے سے تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں مرحوم رہنما کے جسدِ خاکی کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مصلیٰ عام شہریوں کے لیے کھلا رہے گا اور لوگ بڑی تعداد میں شرکت کر کے الوداعی تقریب میں حصہ لے سکیں گے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

کونسل کے سربراہ نے بتایا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے کے انتظامات بھی جاری ہیں اور اس حوالے سے مختلف امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ایران کی کابینہ نے ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری سطح پر مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔

اُدھر ایران نے امریکی، اسرائیلی کارروائی کے جواب میں’آپریشن ٹرو پرومس 4‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران اسرائیلی اہداف اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سیکڑوں شہری بھی شہید ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔