ایران امریکا ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو ہونے کا امکان، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت
امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے کا امکان ہے جس کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان ملاقاتوں کا ایک نیا دور پیر کو پاکستان میں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے مذاکراتی وفود اتوار کو اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ گزشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اگرچہ امریکا اور ایران کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے، تاہم اب دوسرے دور سے عالمی سطح پر بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی آئندہ ہفتے کے شروع میں ختم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ بیٹھک انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
اس بڑی بیٹھک کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کو پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت حاصل ہے اور شہر بھر میں سات ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
خاص طور پر ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی چیکنگ کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے اندرونِ شہر کے تمام بس اڈے تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ایک طرف جہاں سیکیورٹی سخت ہے، وہیں دوسری طرف شہرِ اقتدار کو اس اہم سفارتی مشن کے لیے سجایا بھی جا رہا ہے۔
شاہراہوں کے گرد گرین بیلٹس پر نئے پھول لگائے جا رہے ہیں اور شہر کو دلکش بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔













