سابق افغان طالبان عہدیدار ملا معتصم آغا جان کی گرفتاری کا دعویٰ

آغا جان افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذہبی علما کا مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے: افغان میڈیا
شائع 17 اپريل 2026 11:28am

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں طالبان کے اپنے ایک سابق سینئر عہدیدار ملا معتصم آغا جان کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، مقامی ذرائع نے اس حوالے سے اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔

کابُل ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ملا معتصم آغا جان کو طالبان کی خفیہ ایجنسی نے پانچ روز قبل گرفتار کیا۔

رپورٹ کے مطابق ان پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذہبی علما کا مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا تھا۔ ملا معتصم آغا جان کے قریبی افراد کے مطابق مذکورہ پلیٹ فارم کے ذریعے افغانستان اور پاکستان کے متعدد مذہبی علما کو پہلے ہی ایک جگہ اکٹھا کیا جا چکا تھا، جبکہ اسلام آباد اور طالبان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے بیانات بھی جاری کیے گئے تھے۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرفتاری سے قبل ملا معتصم آغا جان تقریباً ایک کروڑ ڈالر مالیت کے ایک منصوبے پر بھی کام کر رہے تھے، جس میں ایک مذہبی مدرسے کا قیام شامل تھا۔

دوسری جانب طالبان حکام کی جانب سے اس گرفتاری پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ ملا معتصم آغا جان کے اہل خانہ نے بھی اس حوالے سے تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اُدھر افغان صحافی بلال سرورے نے بھی سابق افغان طالبان رہنما ملا معتصم کی گرفتاری کے حوالے سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نےِ لکھا کہ طالبان کے سپریم لیڈر نے اپنے حریف کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایک منفرد نوعیت کے آپریشن میں نام نہاد ڈیڈ اسکواڈ، جو ملا ہیبت اللہ کو بھی سیکیورٹی فراہم کرتا ہے نے ملا ہیبت اللہ کے حریف معتصم آغا جان کو حراست میں لے لیا ہے۔

افغان صحافی نے لکھا کہ وہ طالبان کے بانی اور سابق سربراہ محمد ملا عمر کے چیف آف اسٹاف اور وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں 13 اپریل کو قندھار میں گرفتار کیا گیا تھا۔