آئرلینڈ نے دو اسرائیلی وزرا کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی

دونوں اسرائیلی وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے: آئرش وزیراعظم
شائع 06 جون 2026 12:36pm

آئرلینڈ کے وزیر انصاف جم او کالگھن نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس نے بھی بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ اقدام ایک ایسی ویڈیو کے بعد کیا گیا تھا جس میں بن گویر غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے گرفتار کیے گئے پابند کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے تھے۔

اس واقعے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی بن گویر کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔

گزشتہ برس برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی بن گویر اور سموٹرچ پر فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں۔

ان پابندیوں کے تحت دونوں وزرا کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مغربی ملک کی حکومت نے اسرائیلی وزرا کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

اُس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ سموٹرچ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر نے انتہاپسندانہ تشدد کو ہوا دی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کی۔

جمعے کو مونٹی نیگرو میں یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات فلسطینیوں کو فلسطین سے ختم کرنے کی خواہش کے مترادف ہیں۔

آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کو بھی ان وزرا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ فرانس، اسپین اور اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

مائیکل مارٹن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور آئرلینڈ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا۔

ان کے بقول دونوں وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا پر سفری پابندیاں اس ہفتے کابینہ کے باضابطہ فیصلے کے بغیر آئرش حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر اتمار بن گویر یا بیزالیل سموٹرچ آئرلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں ایک اور فضائی حملہ کیا ہے، حالانکہ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی گزشتہ اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔