ایران امریکا امن منصوبے کے 3 صفحات، فیصلہ کن مذاکرات کی اندرونی کہانی
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تین صفحات پر مشتمل ایک اہم منصوبے پر خفیہ مذاکرات جاری ہیں جس میں سب سے بڑا نکتہ ایران کے ایٹمی ذخیرے کے بدلے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دو امریکی حکام اور مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 20 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز اس شرط پر جاری کرنے کو تیار ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم کر دے۔
اگرچہ اس ہفتے مذاکرات میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بڑے خلیج موجود ہیں جنہیں پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو بیان دیا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ممکنہ طور پر اس ہفتے کے آخر میں بات چیت کے دوسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے تاکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
توقع ہے کہ یہ مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں ہوں گے، کیونکہ پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کو اس کے زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات میں موجود 2000 کلوگرام افزودہ یورینیم، خاص طور پر 60 فیصد تک افزودہ 450 کلوگرام مواد تک رسائی سے روکا جائے، جبکہ ایران کو اس وقت اپنی معیشت سہارا دینے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شروع میں امریکا نے خوراک اور ادویات جیسی انسانی ضروریات کے لیے 6 ارب ڈالر جاری کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دونوں فریقین 20 ارب ڈالر پر بات کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے اسے امریکی تجویز قرار دیا جبکہ دوسرے نے اسے صرف بحث کا حصہ بتایا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی مواد کی منتقلی پر ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ تمام مواد اسے منتقل کر دیا جائے جبکہ ایران صرف اسے اپنے ملک کے اندر ہی ڈاؤن بلینڈ یعنی اس کی شدت کم کرنے پر راضی تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اب زیرِ بحث تجویز یہ ہے کہ کچھ مواد کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے گا اور باقی کو بین الاقوامی نگرانی میں ایران کے اندر ہی ضائع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران سے 20 سال کے لیے ایٹمی افزودگی پر رضاکارانہ پابندی مانگی گئی ہے، لیکن ایران صرف پانچ سال پر راضی ہے۔














