یو اے ای: واٹس ایپ کال سے موبائل ہیک ہونے کا خطرہ، ایڈوائزری جاری
دبئی کے سب سے بڑے بینک ’امارات این بی ڈی‘ نے واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والے خطرناک سائبر حملے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز صرف ایک وائس کال کے ذریعے اسمارٹ فونز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق بینک کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ واٹس ایپ میں موجود ایک ایسی خامی ’زیرو ڈے‘ کا فائدہ اٹھا کر کیا جا رہا ہے جس کا خود وٹس ایپ کے ڈیولپرز کو علم نہیں۔
بینک کے مطابق اس قسم کے حملے فراڈ کے عام طریقوں سے مختلف ہیں کیونکہ اس میں ہیکرز صارف کو کوئی لنک ارسال نہیں کرتے بلکہ نامعلوم نمبر سے آنے والی ایک کال ہی فون کو ہیک کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا وقت نہایت سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات میں تعطیلات کے دوران مبارکبادی پیغامات اور سفر سے متعلق رابطوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کا ہیکرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یو اے ای سائبر سیکیورٹی کونسل کے مطابق زیرو ڈے حملوں کے نتیجے میں ہیکرز صارفین کی ذاتی تصاویر، نجی گفتگو اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
بینک کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں صارفین کے لیے ذاتی اور مالی معلومات محفوظ رکھنے کے لیے اہم ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں واٹس ایپ اور موبائل فون کے آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنا اور واٹس ایپ میں ’ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن‘ فعال کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ صارفین کو نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز سے محتاط رہنے اور صرف بینک کے مستند ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے ہی معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔
بینک نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کبھی بھی ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی)، پِن کوڈ یا لاگ ان تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے، اس لیے اس میں پائی جانے والی کوئی بھی کمزوری دنیا بھر کے صارفین کو متاثر کرسکتی ہے۔
انہوں اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کالز یا لنکس پر اعتماد نہ کیا جائے اور اگر کوئی چیز غیر معمولی لگے تو ممکن ہے وہ واقعی غیر معمولی ہی ہو۔













