جو پاکستان اور آئین کو نہیں مانتے ان سے کیسے مذاکرات کریں: گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جو لوگ پاکستان اور آئین کے اصولوں کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں۔
پشاور میں فیصل کریم کنڈی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اُنہوں نے بتایا کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قیام امن کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
گورنر کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور بعض حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکومت کو دہشت گردی کے واضح ثبوت فراہم کیے ہیں، تاہم وزیر اعلیٰ کے پی کا سرحد پار جا کر ثبوت طلب کرنا غیر منطقی اور مضحکہ خیز اقدام ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ہمیشہ منفی بیانات اور انتشار پھیلانے کی پالیسی پر عمل کرتی رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے سندھ حکومت پر دباؤ ڈال کر جلسہ گاہ بھرنے کی کوشش کی اور وزیر اعلیٰ کے پی کو کراچی اور حیدرآباد میں آمد کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
گورنر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کی صورتحال خراب ہو رہی ہے اور سیکیورٹی فورسز سمیت عام شہری بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں امن قائم ہو گا تو ترقی کے تمام وسائل بروئے کار لائے جا سکیں گے اور عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ جو لوگ پاکستان اور آئین کے اصولوں کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں، اور کے پی میں قیام امن کے لیے افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ امن ہی ترقی کی ضامن ہے اور صوبے کو دہشت گردی سے پاک رکھنے کی تمام کوششیں جاری رہیں گی۔















