شرمیلا فاروقی نے ایک ہی ڈرامے کے بعد اداکاری کیوں چھوڑی؟
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی معروف سیاست دان شرمیلا فاروقی نے انکشاف کیا کہ سیاست میں قدم رکھنے سے بہت پہلے وہ اداکاری کا تجربہ بھی کر چکی ہیں، تاہم انہوں نے کبھی اس شعبے کو بطور پیشہ اپنانے کا ارادہ نہیں کیا۔
فریحہ الطاف کے پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران شرمیلا فاروقی نے بتایا کہ انہوں نے محض 15 برس کی عمر میں اپنا پہلا اور واحد ڈراما کیا تھا۔ اس وقت وہ اسکول میں زیرِ تعلیم تھیں اور صرف شوقیہ طور پر اداکاری آزمانا چاہتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کانونٹ اسکول کے دنوں میں غیر نصابی سرگرمیوں نے ان کے اندر پرفارمنس اور اظہارِ خیال کا اعتماد پیدا کیا، جس نے انہیں ڈرامے کی دنیا کی طرف مائل کیا۔
شرمیلا فاروقی کے مطابق انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیا، جو خود بھی سیاسی اور سماجی حلقوں میں متحرک رہے ہیں۔ اتفاق سے پاکستان ٹیلی وژن کا اسٹیشن ان کے گھر کے قریب تھا اور ان کے والد کے پی ٹی وی کے معروف پروڈیوسر حیدر امام رضوی سے مراسم تھے۔ انہی روابط کے باعث انہیں ایک نجی پروڈکشن کے ڈرامے میں مرکزی کردار کی پیشکش ہوئی۔
یہ ڈراما پاکستان کی ابتدائی نجی ٹی وی پروڈکشنز میں شمار ہوتا ہے، جسے معروف پروڈیوسرعبداللہ کادوانی نے پروڈیوس کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تجربہ ان کے لیے یادگار ضرور تھا، مگر ڈرامے کی شوٹنگ خاصی وقت طلب تھی اور اس دوران ان کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اداکاری کو آگے بڑھانے کے بجائے تعلیم اور بعد ازاں سیاست کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کبھی ان کے کیریئر پلان کا حصہ نہیں رہی، اسی لیے ایک ہی ڈرامہ کرنے کے بعد انہوں نے اداکاری ترک کردی۔
گفتگو کے دوران شرمیلا فاروقی نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مستقبل میں وقت اور حالات نے اجازت دی تو وہ کسی سماجی مسئلے پر مبنی مختصر ڈرامے یا تھیٹر پلے میں کام کرنا چاہیں گی۔
واضح رہے کہ شرمیلا فاروقی ایک مضبوط سیاسی آواز، خواتین کے حقوق کے حق میں واضح مؤقف اور فیمینسٹ نظریات کی حامل رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
وہ کئی برسوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے متحرک ہیں اور سماجی و سیاسی مسائل پر کھل کر رائے دینے کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔
وہ 2015 میں ہاشم ریاض شیخ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور ان کا ایک بیٹا ہے۔
















