اسپین کی 150 سال بعد پہلی ’جین زی‘ ملکہ ’لیونور‘ کون ہیں؟
اسپین کی شاہی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے، جہاں 20 سالہ پرنسز لیونور مستقبل میں ملک کی پہلی حکمران ملکہ بننے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اگر یہ مرحلہ طے پایا تو وہ گزشتہ تقریباً 150 برسوں میں اسپین کی پہلی حکمران ملکہ ہوں گی جو کسی بادشاہ کے ساتھ شریکِ اقتدار نہیں بلکہ خود تخت سنبھالیں گی۔
اسپین میں آخری بار 19ویں صدی میں ملکہ ازابیلا دوم نے حکومت کی تھی۔ اس کے بعد سے شاہی تخت ہمیشہ بادشاہوں کے پاس رہا۔ اگر پرنسز لیونور تخت نشین ہوئیں تو وہ اسپین کی جدید تاریخ میں ایک علامتی اور تاریخی موڑ ثابت ہوں گی۔
پرنسز لیونور، بادشاہ فیلپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا کی بڑی بیٹی ہیں اور اس وقت بطور پرنسز آف آسٹوریاس ہسپانوی تخت کی نامزد وارث (Heir Presumptive) ہیں۔

اگرچہ ان کی تاج پوشی کے لیے کوئی باضابطہ وقت اور تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے، تاہم وہ اس وقت تخت سنبھالیں گی جب ان کے والد بادشاہ فیلپ ششم یا تو خود دستبردار ہوں گے یا ان کے انتقال کے بعد۔
پرنسز لیونور 31 اکتوبر 2005 کو میڈرڈ میں پیدا ہوئیں۔ پیدائش کے ساتھ ہی انہیں پرنسز آف آسٹوریاس کا اعزاز دیا گیا، جو اسپین میں ولی عہد کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ ان کی چھوٹی بہن انفانٹا صوفیہ 2007 میں پیدا ہوئیں اور وہ تخت کی دوسری وارث ہیں۔
ان کے والد بادشاہ فیلپ ششم 2014 میں اس وقت تخت سنبھالا، جب ان کے والد، سابق بادشاہ خوان کارلوس اول، مختلف تنازعات کے بعد دستبردار ہو گئے۔ ملکہ لیٹیزیا، جو ماضی میں ایک معروف ٹی وی صحافی رہ چکی ہیں، جدید سوچ اور مضبوط عوامی رابطے کے باعث شاہی خاندان کی ایک منفرد پہچان رکھتی ہیں۔
پرنسز لیونور نے ابتدائی تعلیم اسپین کے معروف اسکولوں سے حاصل کی، تاہم بعد ازاں انہیں برطانیہ کے یو ڈبلیو سی اٹلانٹک کالج، ویلز بھیجا گیا، جو انٹرنیشنل بیکیلیوریٹ پروگرام کے لیے جانا جاتا ہے اور عالمی رہنماؤں کی تیاری کا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے سفارت کاری، عالمی سیاست اور آئینی اصولوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ ہسپانوی، کاتالان، انگریزی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتی ہیں جبکہ عربی اور مینڈارن کی بنیادی سمجھ بھی رکھتی ہیں۔
18 برس کی عمر میں انہوں نے پارلیمنٹ میں آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا، جس سے بطور ولی عہد ان کی حیثیت باضابطہ طور پر مستحکم ہو گئی۔
ہسپانوی قانون کے تخت کے وارث کے لیے بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت لازمی ہے، کیونکہ مستقبل کا بادشاہ یا ملکہ مسلح افواج کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اسی قانون کے تحت پرنسز لیونور کو بھی مکمل فوجی تربیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے جنگی بحری جہاز بلاس ڈی لیثو پر بھی خدمات انجام دیں اور 2025 میں مرسیا کی ایئر اینڈ اسپیس اکیڈمی میں پیلاٹس پی سی-21 طیارہ اکیلے اڑایا، یوں وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی ہسپانوی شاہی خاتون بن گئیں۔
کم عمری کے باوجود وہ کئی سرکاری دورے، تقاریر اور سفارتی سرگرمیاں انجام دے چکی ہیں، جن کا آغاز انہوں نے محض 13 برس کی عمر میں کیا تھا۔
صحافتی پس منظر رکھنے والی والدہ اور شاہی وراثت کے حامل والد کی بیٹی ہونے کے ناتے، پرنسز لیونور کو ایک ایسی جنریشن زیڈ شاہزادی قرار دیا جا رہا ہے جس پر نہ صرف اسپین بلکہ پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔















