امریکا کی امیگرنٹ ویزوں پر پابندی سے کون متاثر ہوگا؟

امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلی سے 75 ممالک کے شہری متاثر ہوں گے
اپ ڈیٹ 15 جنوری 2026 05:49pm

امریکا نے پاکستان، روس، ایران اور افغانستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ (مستقل) ویزوں کا اجراء غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے متوسط طبقے کے علاوہ امیر افراد اور اشرافیہ پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بدھ کے رورز 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روکنے کا اعلان کیا ہے اور قونصل خانوں کو متاثرہ ممالک سے آنے والی امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ اقدام نومبر میں جاری کیے گئے اس حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے جس میں ممکنہ طور پر ’پبلک چارج‘ بننے والے ممکنہ تارکین وطن کے لیے قواعد مزید سخت کردیے گئے تھے۔

’پبلک چارج‘ (عوامی بوجھ) دراصل امریکی امیگریشن قانون کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو حکومتی امداد پر انحصار کرتا ہو۔ دوسرے ممالک کے وہ شہری جو قانونی طور پر امریکا میں مستقل رہائش حاصل کر چکے ہوں، مختلف سہولیات اور فوائد کے حقدار ہوتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ دیگر ممالک سے آنے والے زیادہ تر لوگ اپنا خرچہ خود اٹھانے کے بجائے امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ صرف وہی افراد امریکا آئیں جو اتنے مالدار یا ہنرمند ہوں کہ امریکا آنے کے بعد فوائد سمیٹنے کے بجائے معیشت کو فائدہ دیں۔

جن ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، روس، افغانستان، برازیل، ایران، عراق، مصر، صومالیہ، نائجیریا، تھائی لینڈ، یمن سمیت مجموعی طور پر 75 ممالک شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں کویت بھی شامل ہے جو ایک خوشحال ملک تصور کیا جاتا ہے۔

یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور حالیہ دنوں میں ویزا پابندیوں کے حوالے سے امریکا کے سخت اقدامات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگا، جن کے ذریعے غیر ملکی شہری مستقل رہائش یا گرین کارڈ کے حصول کے لیے امریکا کا رخ کرتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی شق 212(4 اے) کے تحت ایسے افراد کو امریکا میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے جو مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہوں۔

امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارت خانوں کو نان امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں کی بھی جانچ پڑتال کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا وہ امریکا میں سرکاری سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان کا ردعمل

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی امیگرنٹ ویزا کی معطلی پاکستانی شہریوں کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے اور حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ امید ہے کہ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔

یہ معاملہ پاکستان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس پابندی کا اطلاق کن طبقات پر ہوگا۔

کون سے طبقات متاثر ہوں گے؟

امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کو دراصل ’سلسلہ وار امیگریشن‘ (چین امیگریشن) کو روکنے کی ایک کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ جس سے امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے خواہش مند افراد متاثر ہوں گے۔

اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقہ

اس پابندی کا سب سے زیادہ اثر اس طبقے پر پڑے گا جن کے پاس مالی وسائل موجود ہیں۔

وہ امراء جو لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر کے امریکہ منتقل ہونا چاہتے تھے، ان کے لیے بھی پراسیسنگ سست یا بند کر دی گئی ہے۔

اشرافیہ کے وہ افراد جو اپنے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں سے تعلیم دلوانے کے بعد وہاں مستقل رہائش دلوانے چاہتے تھے، ان کے لیے فی الحال قانونی رکاوٹ آڑے آگئی ہے۔

عام متوسط طبقہ

امریکی شہریوں یا گرین کارڈ ہولڈرز کے وہ رشتہ دار جو اسپانسر شپ کے ذریعے امریکہ آنا چاہتے ہیں، یہ طبقہ بھی اس پابندی سے شدید متاثر ہوگا۔

وہ لوگ جو سالوں سے اپنے بھائی بہنوں، والدین یا بچوں کے امیگرنٹ ویزوں کا انتظار کر رہے تھے، ان کی درخواستیں اب غیر معینہ مدت کے لیے رک گئی ہیں۔اور انہیں پالیسی واضح نہ ہونے تک مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

ہنرمند طبقہ

ایسے ہنر مند افراد، ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین جو پاکستانی یا اس فہرست میں شامل دیگر ممالک سے براہِ راست امیگرنٹ ویزا پر امریکہ جانا چاہتے تھے ان کے لیے فی الحال یہ راستہ بند تصور ہوگا۔

برین ڈرین کا شکار طبقہ

ایسے افراد جو اپنے ممالک میں طرزِ زندگی اور حالات سے ناخوش ہو کر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ طبقہ بھی اس پابندی کی زد میں آئے گا اور اب امریکہ کے بجائے کینیڈا، آسٹریلیا یا یورپی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہوگا۔

پابندی سے مستثنیٰ طبقات

یہ پابندیاں صرف امیگرنٹ‘ (مستقل) ویزوں پر لگائی گئی ہیں۔ نان امیگرنٹ ویزے جن میں سیاحتی، تعلیمی اور ورک ویزے شامل ہیں، ان کا اجرا جاری رہے گا۔ تاہم ان کی جانچ پڑتال مزید سخت کی جا سکتی ہے۔

سیاح اور کاروباری مقاصد کے لیے امریکا جانے والے افراد، طلبہ، کھیلوں کے مقابلوں کے لیے جانے والے کھلاڑی اور شائقین اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں اور وہ امریکا کا سفر کرسکتے ہیں۔

محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد دوہری شہریت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایسے ملک کا پاسپورٹ موجود ہے جو پابندی کی فہرست میں شامل نہیں، تو اس پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرنٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے اسے منسوخ نہیں کیا جا رہا، متاثرہ ممالک کے شہری امیگرنٹ ویزا کی نئی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں لیکن جب تک یہ عمل معطل ہے، اس وقت تک انہیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان

United States

US State Department

US visa

US Immigration

US Immigration Policy

US Green card