بھارت کا ایران پر بحری جہاز پکڑنے کا الزام، عملے تک رسائی کا مطالبہ
چاہ بہار سے بھاگنے کے بعد ایران کے خلاف بھارت نے واویلا کرتے ہوئے ایران پر بحری جہاز پکڑنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق جہاز پر 16 بھارتی عملے کے افراد سوار ہیں۔ بھارت نے فوری طور پر عملے تک قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے بھارتی جہاز پکڑنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سفارت خانے نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ ایرانی حکام نے دسمبر 2025 کے وسط میں 16 بھارتی عملے کے ساتھ تجارتی جہاز’ایم ٹی ویلینٹ رور’ کو پکڑا تھا۔ بھارتی قونصل خانہ بندر عباس نے ایرانی حکومت کو 14 دسمبر کو خط لکھ کرعملے تک قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے دعوے کے مطابق ایران کی اسلامی انقلاب کور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے جہاز کو 8 دسمبر کو بین الاقوامی پانیوں میں، دبئی کے قریب روکا۔ ایران کی اسلامی انقلاب گارڈ کور نے الزام لگایا کہ جہاز تقریباً 6,000 ٹن ایندھن اسمگل کر رہا تھا۔
بھارتی سفارت خانے نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) پر بیان میں کہا کہ بھارت نے گرفتار عملے تک قونصلر رسائی کا مطالبہ کئی بار دہرایا، چاہے وہ خطوط کے ذریعے ہو یا بندر عباس اور تہران میں ملاقاتوں کے ذریعے، حتیٰ کہ سفیر کی سطح پر بھی۔ ساتھ ہی ایرانی حکام سے یہ بھی کہا گیا کہ عملے کو اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
سفارت خانے نے مزید کہا کہ قونصل خانہ نے 15 دسمبر کو جہاز کے مالک متحدہ عرب امارات کی کمپنی سے رابطہ قائم کیا اور ایران میں موجود کمپنی کے نمائندوں سے بھی بات کی تاکہ جہاز کے لیے خوراک، پانی اور ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عملے کے لیے ایرانی عدالت میں قانونی نمائندگی کا انتظام کیا جائے۔
بھارتی سفارت خانے کے دعوے کے مطابق، جہاز پر خوراک اور پانی کے ذخائر ختم ہونے کے خدشات کے باعث، سفارت خانے نے جنوری کے آغاز میں ایرانی نیوی سے ہنگامی سپلائی فراہم کروائی۔
بھارت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دبئی قونصل خانے نے بھی جہاز کی ملکیت رکھنے والی کمپنی پر زور دیا کہ وہ عملے کے لیے قانونی نمائندگی اور معمول کی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
بھارتی سفارت خانے کے مطابق، معاملہ ایران میں عدالتی کارروائی کے تابع ہے، لیکن قونصلر رسائی اور عدالتی عمل کی جلد تکمیل کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ جاری ہے۔













