ایران کے سرکاری ٹی وی کی نشریات ہیک، رضا پہلوی کا بیان نشر
ہیکرز نے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کی سیٹلائٹ نشریات میں مداخلت کرتے ہوئے شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کے حق میں ویڈیوز نشر کر دیں، جن میں سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی گئی کہ وہ عوام پر ہتھیار نہ اٹھائیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آن لائن سامنے آنے والی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہیکنگ پیر کی صبح پیش آئی۔ اس کارروائی کو ایران میں جاری مظاہروں کے بعد نشریاتی نظام میں ہونے والی تازہ ترین اور بڑی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
اتوار کی شب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کے سیٹلائٹ چینلز پر اچانک ایسی ویڈیوز نشر ہوئیں جن میں شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کے بیانات شامل تھے۔
ان ویڈیوز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض سیکیورٹی اہلکاروں نے عوام کے حق میں مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
نشریات کے دوران دکھائے گئے ایک پیغام میں کہا گیا تھا کہ یہ پیغام فوج اور سیکیورٹی فورسز کے لیے ہے۔ عوام پر ہتھیار نہ تانیں اور ملک کے مستقبل کے لیے قوم کا ساتھ دیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے، جسے پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ ملک کے بعض حصوں میں سیٹلائٹ سگنل عارضی طور پر ایک نامعلوم ذریعے سے متاثر ہوا، تاہم اس دوران نشر ہونے والے مواد کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
رضا پہلوی کے دفتر نے بھی نشریاتی مداخلت کے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم ہیکنگ سے متعلق اے پی کی جانب سے کیے گئے سوالات پر کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا گیا۔
ہیک شدہ نشریات میں رضا پہلوی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ میرا فوج کو خصوصی پیغام ہے۔ آپ ایران کی قومی فوج ہیں۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اور عوام کی جانوں کا تحفظ کریں اور مناسب وقت پر عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
بیرونِ ملک سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے اپ لوڈ کی گئیں، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ مواد بیک وقت متعدد چینلز پر نشر ہوا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایرانی نشریاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف اوقات میں سیٹلائٹ چینلز پر غیر مجاز مواد نشر ہونے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 2022 کا واقعہ بھی شامل ہے۔
















