لاشوں کا کھیل کب تک؟

۔
شائع 22 جنوری 2026 03:03pm

سانحہ گل پلازہ میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق اور متعدد لاپتا ہیں۔ کئی لاشیں ناقابلِ شناخت اور کئی انسانی جانوں کی باقیات صرف ہڈیوں کی صورت میں ہی ملی ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف ایک خبر نہیں، بلکہ اجتماعی ضمیر کے جلنے کی داستان ہے۔ یہ افراد کسی قدرتی آفت کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ ایک ایسے نظام کی نذر ہوگئے جو برسوں سے لاپرواہی، بے حسی اور مجرمانہ خاموشی پر کھڑا ہے۔

ہر لاش اپنے ساتھ ایک سوال لے کر نکلی ہے، مگر ہم حسب روایت ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے الزام تراشی کے شور میں گم ہیں۔

گل پلازہ کی آگ، اس کا راکھ اور ملبہ صرف دھواں نہیں، یہ ہماری اجتماعی نااہلی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ جگر کے ٹکڑے، خاک شدہ آرزوئیں، ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کے بین اور بھائیوں کے نوحے ہمیں ایک تلخ سچائی کی طرف دھکیلتے ہیں۔

مہذب معاشروں میں شہر حقیقی تعمیری سوچ اور منصوبہ بندی سے چلا کرتے ہیں، سیاسی چالاکی یا سیاسی کھیل سے نہیں۔ لیکن ہم بڑے فخر سے دعوے کرتے ہیں کہ ملک چلانا جانتے ہیں، ریاست سنبھالنا جانتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب ہم ایک عمارت، ایک مین ہول، ایک سڑک یا ایک ہوٹل محفوظ نہیں رکھ سکتے، تو باقی دعوے کس کھاتے میں رکھے جائیں؟

گل پلازہ، گلشن اقبال کے مین ہول میں گرنے والا بچہ، مری میں برفباری میں پھنسے خاندان، سوات کے سیلاب میں بہتے سیاح، ٹرینوں کے حادثات اور ٹریفک کے روزمرہ جنازے، یہ سب ہمارے نظام کی کمزوری اور حکمرانوں کی بے حسی کی جھلکیاں ہیں۔

ہم ہر بار سانحے کے بعد شور مچاتے ہیں، کچھ معطلیاں، چند بیانات، چند دعوے اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ مگر وہ مائیں، بہنیں اور بیوائیں کبھی نہیں بھولیں گی جن کے پیارے چند لمحوں میں شعلوں اور بد انتظامی کی نذر ہو گئے۔

ہم فخر کے ساتھ دعوے کرتے ہیں کہ ’ہم سیاست اور ملک چلاتے ہیں‘ حالانکہ انسان کی جان کو تحفظ دینا ہمارے لیے سب سے مشکل کام ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی خامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے سیاست کے کھیل میں ماہر ہونے کے دعوے کرتے ہیں۔ عہدے، خزانے اور ادارے ہمارے لیے مالِ غنیمت ہیں، جبکہ عوام صرف اعداد و شمار۔

لاکھوں زندہ انسانوں کو کھلونے یا اعداد و شمار سمجھ لینا ہمارے نظام کا سب سے بڑا جرم ہے، اور پھر حیرت کرتے ہیں کہ لوگ قانون کیوں نہیں مانتے؟ بھئی، جب قانون ساز اور حکمران خود قانون کو مذاق سمجھیں، تو عام آدمی سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟

ہم سقوطِ مشرقی پاکستان جیسے سانحے سے سبق نہیں سیکھ سکے، تو گل پلازہ کی آگ سے کیا سبق لیں؟ چند دن کی ہیڈ لائنز، چند میڈیا رپورٹس اور چند معطلیاں، یہ سب کچھ معمول بن جاتا ہے۔ مگر وہ ماں جس نے بارہ سالہ بیٹے کو واپس نہیں دیکھا، وہ کبھی اسے معمول نہیں مانے گی۔ وہ سہاگن جن کے سہاگ کی خوشیاں اس سال ہی چھن گئیں، ان کے لیے زندگی ایک لمبی کربناک رات بن گئی۔ اور ہم؟ ہم مصروف ہیں بڑے منصوبے بنانے میں، میگا پراجیکٹس، ٹھیکے اور کمیشن جمع کرنے میں۔ انسانی جان؟ بس ایک اضافی خرچ۔

یہ سب صرف الزام تراشی نہیں، یہ ایک حقیقت ہے، ہمارے شہر اور صوبے کی گورننس اتنی کمزور ہے کہ یہ حادثات بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ کیا کبھی سنجیدگی سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ سندھ کے تمام شہر واقعی محفوظ ہیں؟ کیا کبھی آگ، زلزلہ، سیلاب یا دہشت گردی کے لیے ریہرسل ہوئی؟ کیا ہر اہم عمارت کے نقشے ریسکیو ٹیم، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کے پاس موجود ہیں؟ یا ہم اب بھی دعووں، پریس کانفرنسز اور عارضی اقدامات پر انحصار کر رہے ہیں؟

ہمیں انگریز کے دور کا انسپیکٹریٹ سسٹم شاید بوجھ لگتا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نظام روزانہ کی نگرانی پر کھڑا تھا۔ شاپ انسپیکٹر، ٹرانسپورٹ انسپیکٹر، گوشت اور اوزان کے انسپیکٹر، سب جواب دہ تھے۔ ہم نے آزادی کے بعد نظم و ضبط سے بھی آزاد ہو کر صرف سیاسی کھیل میں مہارت حاصل کر لی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، ہر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی سانحہ گل پلازہ۔

تبصرے، میڈیا پر ترجمانوں کی بیک وقت تقاریر اور درجنوں مختلف کہانیاں۔ یہ سب حقیقت کو مزید دھندلا کرتے ہیں۔ ایک جامع، مستند اور ذمہ دار پریس نوٹ شاید زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے نیت، محنت اور سچائی درکار ہے، جو آج نایاب ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اب انسانی جان نہیں، صرف زر کی ہوس مرکز توجہ ہے۔

شہروں کے ماسٹر پلان دولت کے عوض برباد کیے جا رہے ہیں۔ جہاں بڑی تعداد میں لوگ کام کرتے ہیں، وہاں کی عمارتوں کے تازہ نقشے فائر فائٹرز، امدادی اداروں اور قانون نافذ کرنے والوں کے پاس ہونا ناگزیر ہیں۔ سیوریج، پانی، گیس اور بجلی کے نظام کے نقشے اپ ڈیٹ ہونے چاہئیں اور ہنگامی حالات میں ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے لیے راستہ بنانے کا واضح انتظام ہونا چاہیے۔

گل پلازہ کی آگ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ صرف سیاسی کھیل سے کام نہیں چلتا۔ اگر ہم واقعتاً محفوظ شہر چاہتے ہیں تو حکمرانوں کو اپنے سیاسی مفادات، ذاتی فائدے اور کرپشن کی سیاست سے ہٹ کر تعمیری سوچ کو اپنانا ہوگا اور انسانی ہمدردی کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ ہر شہر کے لیے ایک ایسا ضابطہ ہونا چاہیے جو آگ، سیلاب، زلزلہ یا دہشت گردی کی صورت میں فوراً حرکت میں آ جائے اور عوام کی جان و مال کو تحفظ دے۔

اگر ہم سیاسی کھیل سے ملک نہیں چلا سکتے تو وقت آ گیا ہے کہ تعمیری سوچ، حقیقی گورننس اور اصل انسان دوستی کی طرف واپس لوٹیں۔ ورنہ ہر سانحہ، ہر آگ، ہر موت ہمیں یہی سبق دیتی رہے گی اور ہم پھر دیر سے، بہت دیر سے جاگیں گے۔

نوٹ: مصنف کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔