امریکی حملے کا خدشہ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کہاں ہیں؟

خامنہ ای کے تیسرے بیٹے نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں، رپورٹ
شائع 25 جنوری 2026 09:53am

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں شامل ہیں تاکہ حملے کی صورت میں ان کی جان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے، مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں اور اب وہ رہبر اعظم اور حکومت کے اجراعیہ شعبوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کسی بنکر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ این ڈین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر سعید رضا مصیب مطلق نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے جبکہ کچھ لوگ جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

سعید رضا کا کہنا تھا کہ یہ فطری بات ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اہلکار موجود ہوں گے، جیسے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ تاہم، یہ سوچنا درست نہیں کہ وہ کسی بنکر یا پناہ گاہ میں چھپے ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای ضروری اجلاس حکام کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر آلات کے ذریعے منعقد کر رہے ہیں۔

اُدھر اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، ان کی فوج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور ہتھیار ہاتھ میں ہے۔

کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے امریکی اور اسرائیلی افواج کو کسی بھی غلط اقدام سے اجتناب کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔