لاہور میں وفاقی حکومت کی اربوں روپے کی پراپرٹی پر قبضے کی کوشش ناکام

معاملہ اعلیٰ حکام کے علم میں آنے پر نقشے منسوخ کر دیے گئے اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
شائع 27 جنوری 2026 03:41pm

لاہور میں وفاقی حکومت کی اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے، جہاں قبضہ مافیا نے لوئر مال کے علاقے میں سرکاری زمین کے نقشے منظور کروا لیے، تاہم معاملہ اعلیٰ حکام کے علم میں آنے پر نقشے منسوخ کر دیے گئے اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق قبضہ مافیا نے لوئر مال کے علاقے میں سرکاری اراضی پر قبضے کے لیے مبینہ طور پر نقشے پاس کروا لیے تھے تاہم جیسے ہی یہ معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آیا، فوری طور پر نقشے منسوخ کر دیے گئے۔

اس پیش رفت کے بعد ریونیو اسٹاف اور میونسپل کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) کے عملے کے خلاف اینٹی کرپشن انکوائری شروع کر دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ احمد کمال کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی لوکل گورنمنٹ نے اپنی انکوائری رپورٹ میں ملوث افسران کو بے گناہ قرار دے دیا، تاہم بورڈ آف ریونیو نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی ہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ قبضہ مافیا نے سب رجسٹرار آفس کے ذریعے سرکاری اراضی کی رجسٹریاں بھی پاس کروائیں۔ رجسٹریاں سامنے آنے کے بعد بورڈ آف ریونیو نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بورڈ آف ریونیو نے پٹواری، تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے اینٹی کرپشن کو بھجوایا گیا ریفرنس تاحال التوا کا شکار ہے۔