ٹرمپ کو معاہدے کی امید، ایران نے امریکا کو جواب دینے کے لیے مشقیں شروع کردیں
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے برعکس ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا گیا اور ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔
ان کے مطابق امریکا کی کارروائیاں مخصوص اہداف تک محدود رہیں اور ان کا مقصد صرف سکیورٹی خدشات کا ازالہ تھا۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے جنگی مشقوں اور بحری بیڑے کی مشرقی وسطیٰ میں آمد کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ان مشقوں کے پیش نظر فضائی حدود کے لیے نوٹم جاری کیا ہے۔
اس نوٹم میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف آج سے کل تک پچیس ہزار فٹ سے کم بلندی پر پروازیں نہ کی جائیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ فوجی مشقیں نو کلو میٹر کے دائرے میں ہوں گی اور ان کا مقصد دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدران انقلاب نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
پاسدران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر بیانات زیادہ دیتے ہیں، تاہم جنگ یا امن کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں حالات طے کریں گے۔













