بسنت: بہار کی آمد سے شروع ہونے والا تہوار پتنگ بازی تک کیسے پہنچا؟
بسنت کا تہوار پنجاب کی صدیوں پرانی ثقافت کا حصہ ہے، یہ سنسکرت کے لفظ ’وسنت‘ یعنی بہار سے نکلا ہے۔ اسے تہواروں کا بادشاہ کہا جاتا تھا اور اس کا بہار اور بادشاہوں کے ساتھ گہرا تعلق بھی رہا ہے۔
پنجاب قدیم ہندوستان کے دور سے ہی ایک زرعی خطہ رہا ہے، جہاں یہ تہوار موسم کی تبدیلی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اس زرعی خطے میں موسمِ بہار صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ زندگی کی واپسی سمجھی جاتی ہے۔
بسنت صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پورے برصغیر کا مشترکہ ثقافتی ورثہ رہا ہے مگر مختلف ریاستوں اور قوموں نے اسے مختلف انداز میں منایا۔ کسی نے اِسے عبادت سمجھ کر منایا، کوئی اسے ثقافت اور کوئی اسے محض ایک کھیل سمجھ کر مناتا تھا۔
پاکستان میں بسنت ایک ثقافتی میلے کے طور پر منایا جاتا ہے مگر ہندو برادری کے لیے ایک مذہبی تہوار کی حیثیت رکھتا ہے جسے آج بھی بھرپور مذہبی عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
بسنت پنچمی نامی یہ تہوار ہندو کیلنڈر کے مطابق ’ماگھ‘ کے مہینے کے پانچویں دن منایا جاتا ہے، جو عموماً جنوری کے آخر یا فروری میں آتا ہے۔ ہندو برادری اس دن کو نیک شگون سمجھ کر مندروں اور گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کرتی ہے۔

بسنت کا تہوار صرف ہندو برادری تک محدود نہ رہا، وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور سکھوں سمیت دیگر قوموں نے بھی اسے موسمِ بہار کی آمد کی خوشی کے طور پر منانا شروع کر دیا، اس طرح یہ تہوار ہندوستان کا مشترکہ ثقافتی میلہ بن گیا۔
فروری کے مہینے میں جب درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹتیں اور سرسوں کے پیلے پھول زمین پر لہلہاتے نظر آتے تو ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ’بسنت پنچمی‘ تہوار منایا جاتا تھا۔
چونکہ اسکا تعلق موسم کے بدلنے خصوصاً بہار کی آمد سے تھا، لہٰذا سرسوں اور گندم کی فصل کی مناسبت سے ہی پیلا رنگ اس تہوار کی بنیاد بن گیا، جس میں لوگ فطرت کے رنگوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے پیلے لباس پہنتے تھے۔ اس دن کھانے میں بھی پیلے رنگ کا غلبہ ہوتا تھا، میٹھے چاول، بیسن کے لڈو اور دیگر پیلی مٹھائیاں تیار کر کے بانٹی جاتی تھیں۔

بسنت کو شاہی درباروں میں بھی خصوصی مقام حاصل رہا ہے۔ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد کی ایک مستند دستاویزی کتاب آئینِ اکبری میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ جس کے مطابق جلال الدین اکبر کے دورِ حکومت میں بسنت کو درباری ثقافت کے ایک اہم اور خوشی کے تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔
دہلی اور اتر پردیش کے علمی و ادبی مراکز میں بھی بسنت خصوصی طور پر منائی جاتی تھی، جس نے بعد میں صوفی رنگ بھی اختیار کیا۔
لکھنؤ کی سماجی زندگی پر مفصل کتاب ’گزشتہ لکھنؤ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ بسنت کا تہوار لکھنؤ کی تہذیب میں بھی شامل تھا اور وہاں کے نواب واجد علی خود پیلے کپڑے پہن کرعوام کے ساتھ یہ جشن مناتے تھے۔
ہندومت میں بسنت پنچمی کا دن علم کی دیوی ’سرسوتی‘ سے منسوب ہے۔ ہندو برادری اس دن دیوی سرسوتی کی خصوصی پوجا کرتی ہے جس میں علم و دانش کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تعطیل ہوتی ہے، طلبا پیلے کپڑے پہن کر تقاریب میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی کتابیں، قلم اور موسیقی کے آلات دیوی سرسوتی کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ ان پر برکت نازل ہو۔
ایک اور روایت ’اکشر ابھیاسم‘ کے تحت کئی ہندو خاندانوں میں چھوٹے بچوں کو پہلی بار حروف تہجی سکھانے یا اسکول میں داخل کروانے کے لیے اس دن کو انتہائی مبارک سمجھا جاتا ہے۔
بسنت کو ایک خالص مذہبی تہوار کے بجائے عوامی تہوار کے طور پر منانے میں صوفیائے کرام کا بھی کردار رہا ہے۔ امیر خسرو کی شاعری میں بھی سرسوں اور بہار کا ذکر ملتا ہے۔
صوفیائے کرام کے کردار کے نتیجے میں یہ میلہ مذہبی حدود سے نکل کر ایک سیکولر ثقافتی جشن بن گیا، جسے آج مسلمان، ہندو اور سکھ مل کر مناتے ہیں۔ ہندوستان کے شہر اجمیر شریف میں واقع درگاہ نظام الدین اولیاء پر آج بھی بسنت دربار منعقد ہوتا ہے جس میں قوال پیلے لباس پہن کر قوالیاں گاتے ہیں۔

لاہور میں بھی بسنت کے موقع پر معروف صوفی بزرگ شاہ حسین کی برسی پر میلہ چراغاں منعقد ہوتا ہے۔ یہ میلہ برصغیرکے بڑے صوفی میلوں میں سے ایک ہے، جس میں صوفیانہ کلام اور دھمال کے ساتھ بہار کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔
بسنت کو قومی جشن کی حیثیت مغل بادشاہوں کے دور میں حاصل ہوئی۔ شہنشاہ اکبر اور جہانگیر نے اس تہوار کو بڑے پیمانے پر منایا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دور میں قلعہ معلیٰ کے پیچھے دریائے جمنا کے کنارے بسنت میلہ لگتا تھا، جہاں مغل بادشاہ اپنی بیگمات کے ساتھ اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
بسنت پر پتنگ بازی کا کلچر بھی اسی دور میں متعارف ہوا۔ بسنت کے دنوں میں آسمان کا آبی رنگ رنگین پتنگوں میں کہیں گُم ہوجاتا تھا مگر آج یہ تہوار صرف پتنگ بازی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
اگرچہ کاغذ کی پتنگ چین میں ایجاد ہوئی لیکن برصغیر میں اسے مغلوں کے دور میں مقبولیت ملی۔ ابتدا میں یہ اشرافیہ کا کھیل تھا جو بعد میں عوام تک پہنچا۔ اُس دور کی نایاب پینٹنگز میں بھی شاہی خواتین کو پتنگ اڑاتے دکھایا گیا ہے۔
پنجاب میں بسنت کا سنہرا دور سکھ عہد کو مانا جاتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے پنجاب کا سرکاری تہوار بنایا۔
کنہیا لال ہندی کی 1884 کی تصنیف ’تاریخِ لاہور‘ سے انیسویں صدی کے لاہور میں بسنت کے تہوار کا نہایت تفصیل سے تذکرہ ملتا ہے۔
کتاب کے مطابق اُس دور میں بسنت محض ایک موسمی میلہ نہیں بلکہ سرکاری سرپرستی میں منایا جانے والا ایک بڑا سماجی تہوار تھا۔ رنجیت سنگھ اور ملکہ موراں خود بھی پیلے لباس زیب تن کر کے اس تہوار میں شامل ہوتے اور پتنگیں اڑایا کرتے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد پنجاب دو حصوں میں بٹ گیا اور یہاں کے سماجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی آئی لیکن بسنت کی روایت ختم نہیں ہوئی۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ پتنگ بازی کا فن لے کر آئی۔
اور بسنت کو باقاعدہ فیسٹیول کی صورت میں منانے کا سلسلہ جاری رہا۔
میگزین فرائیڈے ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق بسنت میں نئی تقاریب کے اضافے کا سہرا لاہوریوں کے سر جاتا ہے۔ یہیں سے بسنت کو فیسٹیول کی ایک منفرد فیسٹیول کی صورت میں شناخت ملی۔
بسنت لاہور کی معیشت کا بڑا ستون تھی جس میں سب سے بڑا کردار پتنگ سازی کا تھا جو باقاعدہ ایک صنعت کا روپ اختیار کر گئی تھی جس سے کئی خاندان وابستہ تھے جو سائز اور بناوٹ کے لحاظ سے مختلف اقسام کی پتنگیں بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔
Lahore 35 years ago when kite making was a proper industry pic.twitter.com/AXqeYinYuE
— iffi (@iffiViews) February 3, 2026
پتنگ سازی کے علاوہ پتنگ بازی خود بھی ایک فن کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ایک ماہر پتنگ باز ہوا کے رخ کے مطابق پتنگ کا انتخاب کرتا ہے، اور انہیں گُڈی، گُڈا، تُکل اور پری جیسے دلچسپ نام دیے گئے جو آج بھی مقبول ہیں۔ پتنگ کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اس میں سوراخ کرکے ڈور کو مخصوص انداز میں باندھا جاتا ہے جسے عرفِ عام میں ’کَنّے باندھنا‘ کہا جاتا ہے۔
پتنگ کی ڈور کو لکڑی یا لوہے کی بنی چرخی سے لپیٹا جاتا ہے اور پتنگ باز کے ساتھ ایک شخص اس چرخی کو سنبھالنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔
پتنگ کی ڈور بنانا بھی ایک صنعت کا درجہ رکھتی تھی۔ جس میں سوتی دھاگے کا استعمال ہوتا تھا، جسے ’مانجا‘ یا ’صدی‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ڈور دھاگے پر لئی (پسی ہوئی چاول یا گندم ملا پانی) چڑھا کر بنائی جاتی تھی۔
بسنت کا تہوار مقامی فوڈ انڈسٹری کے لیے بھی عید کا دن سمجھا جاتا تھا۔ لوگ پتنگ اڑانے کے لیے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اونچی چھتوں پر جمع ہوتے تھے تو گاجر کا حلوہ، کشمیری چائے اور میٹھے کھانوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
لوگ ایک دوسرے کی پتنگ کاٹتے جسے ’پیچا لڑانا‘ کہا جاتا تھا۔ جب کوئی کسی دوسرے کی پتنگ کاٹ دیتا تو اس لمحے کو باقاعدہ جشن کی صورت میں منایا جاتا تھا۔ ہر پتنگ کٹنے پر ڈھول اور بھنگڑے ڈالے جاتے تھے اور بھرپور عوامی جوش و خروش پایا جاتا تھا۔

اسی طرح کٹی ہوئی پتنگ کو پکڑنا بھی تفریح کا ایک ذریعہ تھا۔ عوام خصوصاً بچوں کا ایک جمِ غفیر ہوا میں اڑتی ہوئی پتنگ کے پیچھے دوڑیں لگاتا اور جو یہ پتنگ پکڑ لیتا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا۔
پاکستانی موسیقی اور پاپ کلچر میں بھی بسنت کا بہت نمایاں ذکر ملتا ہے۔ فریحہ پرویز کا گانا ’پتنگ باز سجنا‘ بسنت پر سب سے مقبول گانا مانا جاتا ہے۔ یہ گانا ان کے ایوارڈ یافتہ البم ’دل ہوا بو کاٹا‘ کا حصہ تھا۔ اس گانے نے فریحہ پرویز کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔
ابرار الحق کے گانے بھی بسنت کے موقع پر لاہور کی چھتوں پر گونجتے ہیں۔ جس میں ’بو کاٹا‘ اور ’پیچ لڑانے‘ کی اصطلاحات کا بھرپور استعمال ملتا ہے۔
پنجاب میں 1980 سے 2000 تک کے عرصے کو بسنت کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں بسنت لاہور کا ٹریڈ مارک بن گئی اور اس نے باقاعدہ ایک کارپوریٹ فیسٹیول کا روپ اختیار کرلیا۔
1990 کی دہائی میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بسنت کو اسپانسر کرنا شروع کیا۔ ہوٹلوں کی چھتیں مہینوں پہلے بُک ہو جاتی تھیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے ’رُوف ٹاپ فیسٹیولز‘ (چھتوں کے میلے) میں شمار ہونے لگا۔
اس دور میں بسنت نے سیاست اور سفارت کاری میں ابھی اہم کردار کیا۔ غیر ملکی سفیروں اور سربراہانِ مملکت کو لاہور بلایا جاتا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بسنت کو ’جشنِ بہاراں‘ کا بھی نام دیا گیا۔
بسنت پر مقابلے بازی کا رجحان شروع ہوتے ہی بعض سرگرمیوں نے اس خوبصورت تہوار کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا اور یہی اس پر پابندی کی وجہ بنا۔
جب بسنت کے دوران روایتی ڈور کی جگہ کیمیکلز اور دھاتوں سے بنی ڈور نے لی اور اس سے گلے کٹنے اور اموات کے واقعات عام ہوئے، ڈھول باجے اور رقص کی جگہ ہوائی فائرنگ کا کلچر پروان چڑھنے لگا، کرنٹ لگنے اور چھتوں سے گرنے کے واقعات عام ہوتے گئے تو اس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور عدالتِ عظمیٰ کو مداخلت کرنا پڑی۔
فروری 2005 میں جب بسنت منانے کے دوران 19 افراد کی ہلاکت اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے تو سپریم نے اس پر ازخود نوٹس لیا۔
اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پتنگ بازی کو ’خونی کھیل‘ قرار دیا اور اس پر پابندی لگانے کا حکم دیا جس کے بعد حکومتِ پنجاب نے 2007 میں اس تہوار پر پابندی عائد کی۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی کے حوالے ’پروہیبشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ‘ نامی قانون بھی موجود ہے۔ جس کے تحت پتنگ اڑانے اور اس کی خرید و فروخت پر سخت جرمانے اور سزائیں نافذ ہیں۔
پنجاب حکومت نے 2007 میں بسنت پر عائد پابندی 15 روز کے لیے ختم کی تو صرف دو روز میں 10 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کے بعد پولیس نے ’پروہیبشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ‘ پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا۔

لاہور میں رواں سال طویل پابندی کے بعد بسنت منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ پنجاب حکومت نے لگ بھگ 20 برس بعد سرکاری سطح پر بسنت منانے کا اعلان کیا ہے جو 6 سے 8 فروری تک پورے صوبے کے بجاؤ صرف لاہور میں منائی جائے گی۔ تاہم انسانی جان کے تحفظ کے لیے پتنگ سازی اور پتنگ بازی کو قواعد و ضوابط کا پابند کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 6 فروری کو بسنت کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ 5 فروری یعنی جمعرات کو یومِ یکجہتی کشمیر، جمعہ کو بسنت اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کی صورت میں لاہور کے شہریوں کو ایک طویل ویک اینڈ میسر ہوگا۔
حکومتِ پنجاب نے بسنت پر پتنگ بنانے، فروخت کرنے اور پتنگ سازی کے سامان سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے۔
حکومت نے پتنگوں کے سائز بھی جاری کیے ہیں جس کے تحت صرف 35 انچ کی پتنگ اور 40 انچ کے گڈے بنانے اور اڑانے کی اجازت ہوگی۔ بڑے سائز کی ’میزائل‘ نما پتنگیں جو ہوا کا دباؤ برداشت نہیں کر پاتیں اور بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچاتی ہیں، سختی سے ممنوع ہیں۔
ڈور کے لیے صرف سوتی دھاگے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ نائیلون، پلاسٹک یا دھاتی ڈور بنانے، بیچنے یا استعمال کرنے والے کو ناقابلِ ضمانت جرم کے تحت فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جن مخصوص چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے، وہاں مالکِ مکان کو ہوائی فائرنگ اور ممنوعہ ڈور کے استعمال سے اجتناب کے لیے پابند کیا گیا ہے۔
حکومت نے لاہور میں بسنت کی سخت نگرانی کا بھی فیصلہ کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ کسی علاقے میں کیمیکل ڈور سے ہلاکت کی صورت میں متعلقہ ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر براہِ راست ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے جبکہ لاہور کے گنجان آباد علاقوں کی ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت نے رواں سال بسنت میلے کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی ہے جس کے تحت لاہور میں فوڈ فیسٹیولز، موسیقی کے پروگرامات، لائٹنگ اور خصوصی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔















