جاپان کے سیاہ انڈے: کیا یہ واقعی عمر کو 7 سال تک بڑھا دیتے ہیں؟
جاپان میں ایک ایسی حیران کن وادی ہے کہ جہاں انڈے سیاہ ہوجاتے ہیں اور اپنی ایک تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سیاہ انڈوں کے بارے میں ایک روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے، وہ یہ کہ اس کو کھانے والے کی عمر میں سات سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
اوواکوڈانی نامی یہ وادی ہاکونے کے علاقے میں واقع ہے، اسے آتش فشانی وادی بھی کہتے ہیں۔ یہ وادی ٹوکیو سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
’اوواکوڈانی‘ جس کا مطلب ہے ’عظیم اُبلتی وادی‘۔ یہ وادی کم و بیش 3 ہزار سال قبل ہاکونے پہاڑ کے پھٹنے کے بعد وجود میں آئی تھی اور آج بھی آتش فشانی علاقہ ہے۔
اس وادی میں زمین سے بھاپ نکلتی ہے اور گرم گیسوں کے بگولے پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ مقام کبھی کبھی ’جہنم کی وادی‘ یا ’ڈیتھ ویلی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ انڈے بظاہر عام مرغی کے انڈوں جیسے ہی ہوتے ہیں جنہیں جاپانی زبان میں ’کورو تاماگو‘کہتے ہیں، لیکن اوواکوڈانی میں سلفر سے بھرے گرم چشموں میں تقریباً ایک گھنٹہ اُبلنے کے بعد ان کی خول سیاہ ہو جاتے ہیں لیکن ان کے اندرونی حصے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور یہ عام اُبلے ہوئے انڈے جیسے ہی ذائقے کے ہوتے ہیں۔
مقامی اسٹالز، خاص طور وہاں کے ’کورو تاماگو ہاؤس‘ اسٹال پر، یہ سیاہ انڈے فروخت کیے جاتے ہیں اور زیادہ تر لوگ انہیں اُسی جگہ کھا لیتے ہیں۔
سیاہ انڈے کے حوالے سے روایت ایک ہزار سال پرانی ہے اور اس کا تعلق ہیان دور کے معروف بدھ راہب اور عالم ’کوبو دائی شی ‘ سے جوڑا جاتا ہے۔
مقامی کہانیوں کے مطابق، کوبو دائی شی نے اس خطرناک وادی کا دورہ کیا اور یہاں کے مقامی لوگوں کی مشکلات دیکھ کر ایک مجسمہ بنایا جسے ’انمے جیزو‘ کہتے ہیں۔ یہ مجسمہ لمبی عمر اور حفاظت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے کوبو دائی شی راہب نے مقامی لوگوں کو انڈے کھانے کی ترغیب دی تاکہ صحت اور توانائی میں اضافہ ہو۔
وقت کے ساتھ، یہ عقیدہ عام ہوگیا کہ ایک سیاہ انڈا کھانے سے زندگی میں سات سال کا اضافہ ہوتا ہے۔

جاپانی ثقافت میں سات کا عدد خوش قسمتی اور روحانی تکمیل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس دعوے کا سائنسی ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ روایت صدیوں سے زندہ ہے اور ہاکونے کی مشہور کہانیوں میں شامل ہے۔
یہاں آنے والے سیاح نہ صرف اس کہانی کو سنتے ہیں بلکہ وادی کی خام فطرت، بھاپ سے بھرے راستے اور قدیم زیارتوں کے درمیان یہ تجربہ ایک طرح کی رسومات جیسا محسوس کرتے ہیں۔

جاپانی لوگ اس روایت کو زیادہ تر ثقافتی اور روایتی اہمیت کے لیے اپناتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سیاح اسے ایک منفرد تجربہ اور کھانے کے ساتھ کہانی کا لطف سمجھتے ہیں۔
اوواکوڈانی ایک فعال آتش فشانی علاقہ ہونے کے سبب کبھی کبھار حفاظتی وجوہات کی بنا پر محدود کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ گیس خارج ہونے یا زمین کے خطرے کے دنوں میں راستے بند کیے جا سکتے ہیں اور وہاں کی روپ وے یا کیبل کارمعطل ہو سکتی ہے۔
اس وادی میں جانے والے سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف نشان زدہ راستوں پر چلیں، حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور مقامی اطلاعات چیک کریں، خاص طور پر اگرسانس کی بیماری یا ایسا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بہت احتیاط لازم ہے۔
















