بورڈ آف پیس میں شامل ہوکر ابراہم اکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گے: دفتر خارجہ

خطے میں امن اور استحکام صرف سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، ترجمان
اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 01:25pm

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہوکر ابراہم اکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پاکستان ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن اور استحکام صرف سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا حصہ بننے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے لیے اُمید کا پیغام ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکا نے پاکستان سے متعلق اپنی ٹریول ایڈوائزری کو اپ گریڈ کر دیا ہے، جس کے بعد اب مزید لوگ امریکا سے پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔

ان کے مطابق اس ٹریول ایڈوائزری سے پاکستان ایک محفوظ ملک کے طور پر سامنے آتا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور ان کے دورے کی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم ثابت ہوگا۔

علاقائی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور تمام تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی وکالت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طاقت کے استعمال کے خلاف ہے اور ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کی بھی مخالفت کر چکا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے دو مرتبہ رابطہ کیا، جبکہ ڈیووس میں امریکی فریق کے ساتھ بھی ملاقات کی گئی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطہ جنگ اور ہنگامہ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسی صورتحال بنیادی طور پر معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں امن اور سفارت کاری کا راستہ غالب آئے۔