لاہور: گٹر میں گر کر ماں، بیٹی کی ہلاکت؛ متوفیہ کے شوہر کا پولیس پر تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام
لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے پر متوفیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بھاٹی گیٹ میں مین ہول میں گرنے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ واقعے کے بعد پولیس کے پاس درخواست دینے گئے تو پولیس نے ان کا بیان لکھنے کے بعد تفتیش شروع کر دی۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا ان کا بیوی کے ساتھ کوئی جھگڑا تو نہیں تھا۔
غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے کہا کہ مین ہول سے لاش آگے نہیں جا سکتی اور اسی بنیاد پر ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا اور انہیں ایک کمرے میں لے جا کر بیلٹ اور ڈنڈوں سے تشدد کیا گیا۔
متوفیہ کے شوہر کے مطابق پولیس منوانا چاہتی تھی کہ انہوں نے ہی اپنی بیوی کو کہیں غائب کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو سیف سٹی کیمروں سے حقائق چیک کرنے کا کہا تاہم پولیس نے جواب دیا کہ سچ ہمیں آپ سے ہی معلوم ہونا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے موبائل فون لے لیا اور ان کے کزن کو بھی ساتھ لے گئے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق ایس پی نے انہیں ایک تصویر دکھا کر شناخت کرنے کو کہا، جس پر انہوں نے تصدیق کی کہ تصویر میں موجود خاتون ان کی بیوی ہے تاہم اس کے باوجود ایس پی ماننے کو تیار نہیں تھے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کی لاش ملنے کے باوجود پولیس نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ لاش کہاں سے ملی۔
سانحہ داتا دربار پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ معطل
دوسری جانب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے خاوند کو حراست میں لینے اور تشدد کی اطلاعات پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ کو معطل جب کہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
پولیس کے مطاابق ڈی آئی جی آپریشنز کے احکامات پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل جب کہ ڈی ایس پی مامون کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری بھی جاری کیا گیا ہے۔
ایس پی سٹی اور متعلقہ پولیس کے رسپانس کے تعین کے لیے اعلی سطح تحقیقات ہوں گی جب کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو کو انکوائری کے لیے خط لکھ دیا ہے، انکوائری میں خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کی محرکات کا تعین ہو گا جب کہ پولیس نے ریسکیو کال اور ریسیکو آپریشن کے دوران گرفتاری کیوں کی، اس کی بھی جانچ ہو گی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق اے آئی بی کو جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پولیس حکام کے مبینہ افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن ہو گا۔
ماں اور بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں نیا انکشاف
ادھر داتا دربار کے قریب ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں مدعی مقدمہ اور متوفیہ خاتون کے والد کی فیملی نے پولیس پر سادہ کاغذ پر نشان انگوٹھا اور دستخط لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
متاثرہ خاندان کی جانب سے جاری وڈیو بیان میں متاثرہ خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ سادہ کاغذ پر نشان انگوٹھا اور دستخط لینے مقصد قصور وار محکموں کو ریلیف دینا ہے۔
دوسری جانب ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ڈیڈ ہاوس میں متوفی خاتون کے والد کا انگوٹھا درخواست مقدمہ میں تصیح کے لیے لگوایا گیا تھا، مدعی کی درخواست مقدمہ میں سیفٹی آفیسر محمد دانیال کا ذکر تھا جب کہ گرفتار کرنے پر پتہ چلا کہ سیفٹی آفیسر کا نام محمد حنزلہ تھا۔
ڈیڈ ہاؤس سے نکلتے ہوئے وقت کی قلت کے باعث درخواست مقدمہ کی درستگی کے لیے انگوٹھا لگوا کر درخواست دوبارہ دی گئی۔ انگوٹھا لگاتے وقت تمام خاندان متوفی کی لاش کے ساتھ ڈیڈ ہاوس میں تھا۔
انویسٹی گیشن ونگ نے نئی درخواست کے لیے انگوٹھا لگوا کر تصیح کی کارروائی مکمل کر دی ہے۔
دوسری طرف داتا دربار کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شورکورٹ میں تدفین کردی گئی، جس میں سیاسی، سماجی شخصیات اور علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ بھاٹی گیٹ میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس پر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔












