وادی تیراہ میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن میں فتنوں کا صفایا کر رہے ہیں: سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا، انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن میں فتنوں کا صفایا کررہے ہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
جمعے کو کراچی میں سیکیورٹی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہورہا، صرف (آئی بی اوز) ہو رہے ہیں، وادی تیراہ میں دہشت گردوں، فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے اور انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن میں تمام فتنوں کا صفایا کررہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیراہ میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، آپریشن کے ضمن میں ہونے والے بے بنیاد پروپگینڈا کی نفی کرتا ہے۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے، کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتہ میں دراڑ نہیں ڈال سکتا۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جینس معلومات پر کارروائیاں کی جارہی ہیں، موجودہ موسم بھی بڑے آپریشن کے لیے کسی طرح مناسب نہیں، وادی تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ قبائلی عوام، معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں، جو ان کے ہی فیصلے ہوتے ہیں، وادی تیراہ کے حوالے سے محض پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، مشاورت میں ہمیشہ مقامی حالات و روایات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام اورترقی کے دُشمن ہیں، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچ عوام پہچان چُکی ہے، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دشمن ہیں، بلوچستان میں 25 ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں اور 4 امراض قلب کے اسپتال بنے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پاک فوج نے دشمن کو مثالی دھول چٹائی، بھارت نےدوبارہ کوشش کی تو پہلے سےزیادہ منہ توڑ جواب دیں گے، بھارت پاکستان میں امن خراب کرنا چاہتا ہے، فیلڈ مارشل کی ہدایت پر معرکہ حق کے وقت مغربی سرحد پر بھی فوج موجود رہی۔
سیکیورٹی نے مزید کہا کہ بھارت افغانستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کررہا ہے، ہم ڈرون ٹیکنالوجی میں اہم کامیابی حاصل کرچکےہیں، کبھی نہیں چاہتے کہ ہمارا میڈیا کمزور ہو، طاقت ور میڈیا پاکستان کی ضرورت ہے، معرکہ حق میں میڈیا نےبھرپور کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے نوٹس لیا تھا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے جان بوجھ کر پھیلائے جا رہے ہیں کہ فوج نے وادی تیراہ کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسی روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو میں پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اگر بات غلط ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود وادی تیراہ لے کے جاؤں گا۔
جس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ کوئی بحران نہیں، وادی تیراہ میں جب برف باری ہوتی ہے نقل مکانی ہوتی ہے۔












