امریکا میں ٹرمپ کے امیگریشن اہلکاروں کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ
امریکا کے شہر منی ایپولس میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو منی سوٹا سے واپس بلایا جائے، یہ احتجاج دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔
رائٹرز کے مطابق جمعے کو منی ایپولس میں ہزاروں افراد نے وفاقی امیگریشن کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ کیلیفورنیا سے نیویارک تک طلبہ اور اساتذہ نے تعلیمی اداروں سے اتحجاجاً واک آؤٹ کیا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آپریشن میٹرو سرج میں کمی یا اضافے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے نیشنل امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت منی ایپولس کے علاقے میں 3 ہزار وفاقی افسران تعینات کیے گئے ہیں، جو ٹیکٹیکل وردیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ یہ فورس منی ایپولس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی بتائی جا رہی ہے۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے طریقہ کار اور فورس میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے منی ایپولس کے ڈاؤن ٹاؤن میں شدید سرد موسم کے باوجود ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں کم عمر بچوں کے ساتھ خاندان، بزرگ جوڑے اور نوجوان سماجی کارکن شامل تھے۔
منی ایپولس کے ایک رہائشی علاقے میں، جہاں اس ماہ دو امریکی شہریوں الیکس پریٹی اور رینی گُڈ کو وفاقی امیگریشن ایجنٹس نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا، مقامی اسکولوں کے تقریباً 50 اساتذہ اور عملے کے افراد نے مارچ میں شرکت کی۔
احتجاج کا دائرہ منی سوٹا سے باہر بھی پھیل گیا، منتظمین کے مطابق 46 ریاستوں میں 250 مظاہروں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جن میں نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو اور واشنگٹن جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ احتجاجی مہم کا نعرہ تھا کہ کوئی کام نہیں، کوئی اسکول نہیں، کوئی خریداری نہیں، آئی سی ای کی فنڈنگ بند کرو۔‘
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، جن کے محکمے کے تحت آئی سی ای کام کرتی ہے۔
ناقدین کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ کرسٹی نوم نے شاندار کام کیا ہے اور یہ کہ سرحدی بحران، جو انہیں ورثے میں ملا تھا، اب حل ہو چکا ہے۔














