غیرت کے نام پر قتل خلاف اسلام قرار: اسلامی نظریاتی کونسل کی اہم قانونی معاملات پر رائے
اسلامی نظریاتی کونسل نے اہم قانونی معاملات پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قانون سازی اور قومی مسائل پررہنمائی کا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا 244 واں اجلاس چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین کی زیرِصدارت ہوا، جس میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسزکونشانہ بنانا قابلِ نفرت اورخلافِ اسلام عمل ہے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ اسلام امن، برداشت اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے جب کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
کونسل کے اجلاس میں سابق اراکینِ کونسل کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور مرحومین کی دینی وعلمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں عائلی قوانین سے متعلق اہم سفارشات بھی منظور کی گئیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی کہ اگر خاوند دو سال تک لاپتہ رہے تو بیوی کو فسخِ نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے، اسی طرح نفقہ فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں ایک سال بعد فسخِ نکاح ممکن ہوگا جب کہ خاوند کے قید میں ہونے کی صورت میں 3 سال بعد عدالت سے رجوع کیا جا سکے گا۔ ذہنی یا جسمانی بیماری کی بنیاد پر بھی ایک سال بعد فسخِ نکاح کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی جب کہ بچپن میں ہونے والے نکاح میں اگر سوءِ اختیار ثابت ہو جائے تو فسخِ نکاح ممکن قرار دیا گیا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے رحم کی پیوندکاری کو مخصوص شرعی شرائط کے ساتھ مشروط اجازت کے دائرے میں ممکن قرار دیا تاہم نیو ڈورا پروڈکٹ کے استعمال کو درست قرار نہیں دیا گیا۔
اجلاس میں قرآنی اور مقدس اوراق کی بے حرمتی سے بچاؤ کے لیے ان عام کچرے سے الگ اور مناسب طریقے سے ری سائیکل کرنے کی سفارش کی گئی۔
کونسل نے واضح الفاظ میں کہا کہ غیرت کے نام پر قتل صریحاً خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ریاستی قوانین کی پاسداری اورعدالتی نظام کے ذریعے انصاف کی فراہمی ہی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔











