مشرقی ہمسایہ اور خوارج ترقی کی راہ میں کانٹا بننا چاہتے ہیں: وزیراعظم

ایران میں جو کشیدگی چل رہی تھی، اس حوالے سے پاکستان نے برادرانہ کردار ادا کیا: شہباز شریف
اپ ڈیٹ 04 فروری 2026 10:38pm

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ اور خوارج پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے راستے میں کانٹا بننا چاہتے ہیں لیکن ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا، بہادر افواج نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان نے دہشت گرد حملہ کیا، ہماری بہادر افواج نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا، 3،4 دنوں میں جوابی کارروائی میں 180 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے میں 17 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا اور 31 شہری بھی شہید ہوئے، گوادر میں 5 خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا، معرکہ حق میں دشمن کو شکست سے دو چار کیا، نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے پتھر دل لوگ انسان نہیں ہیں، ہمارے شہدا کی قربیانیاں رنگ لائیں گی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے، مزدوروں اور بچوں کے قتل پر پوری قوم افسردہ ہے، قوم عظیم بیٹوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہیدوں کے بچوں کی کفالت ریاست کرے گی۔ مشرقی ہمسایہ اور خوارج پاکستان کی ترقی کی راہ میں کانٹا بننا چاہتے ہیں، پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختوںخوا سہیل آفریدی سے ملاقات میں اچھی گفتگو ہوئی، انہیں یقین دلایا کہ وفاق خیبرپختونخوا سے مکمل تعاون کرے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں واضح مؤقف اختیار کیا، بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کرکیا، بنگلادیش کے ساتھ مکمل یکجہتی ہے، کھیل کے میدان میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ قازقستان کے ساتھ ایک بلین کی تجارت کا معاہدہ کیا، قازقستان کے صدر نے مجھے دورے کی دعوت دی ہے، امید ہے قازقستان کے ساتھ معاشی تعلقات تیزی سے بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کل ازبکستان کے صدر بھی آرہے ہیں اور وہ پرعزم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں جو کشیدگی چل رہی تھی، اس حوالے سے پاکستان نے پورا برادرانہ کردار ادا کیا، میں نے خود، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مختلف اوقات میں ایرانی قیادت سے بالمشافہ ملاقات ہوئی، ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی اور مختلف جگہوں پر ان سے بات چیت کی اور بھائی کے طور پر جتنا کردار ادا کیا جاسکتا ہے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس میں قطر، ترکیہ، مصر، عمان اور سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک شامل ہیں اور پوری کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکل آئے تاکہ خطے میں جو خطرات منڈھلا رہے ہیں وہ ختم ہوجائیں اور خطے میں امن قائم ہوجائے۔

وفاقی کابینہ اجلاس کا اعلامیہ جاری

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

اقتصادی تعاون کمیٹی کے 3 فروری، ریاستی ملکیتی ادراوں سے متعلقہ کابینہ کمیٹی کے 9 جنوری اور قانون سازی کے تصفیہ سے متعلقہ کابینہ کمیٹی کے 29 جنوری کے منعقدہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی اصولی منظوری دی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں، متعلقہ اکائیوں اور عوام کی حمایت سے ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر پر حکومت پاکستان اور پوری قوم کے جانب سے کشمیریوں کے لیے یکجہتی کا پیغام دیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کے ایصال ثواب اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے شہریوں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلکاروں کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلی خیبر پختونخوا سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وفاق اور صوبے کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو بنگلہ دیش سے یکجہتی کے اظہار میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت سے دو طرفہ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو بردار ممالک سے پاکستان کے بہترین سفارتی تعلقات بالخصوص قازقستان کے صدر کے حالیہ دورے اور ازبک صدر کے آئندہ دورے سے متعلق بھی آگاہ کیا۔