بھارت میں تین کم سن بہنوں کی خودکشی: میوزک گروپ ’کے پاپ‘ کی وجہ سے جان دی
بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کوریائی پاپ کلچر کی جنون کی حد تک دیوانی تھیں، ساتھ ہی نوٹ میں گھر کے دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔
تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے پیچھے آن لائن کوریائی ڈرامے اور گیمز کے لیے شدید لگاؤ، گھر کے اندر شدید دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات بنیادی وجوہات تھیں۔
بچیوں کی جانب سے لکھے گئے نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی گئی اور یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک گروپ ’کے-پاپ‘ اور کوریائی اداکاروں کے لیے شدت سے عقیدت کا ذکر تھا۔
نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ’ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا۔ یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔ بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔‘
نوٹ میں بہنوں نے اپنی کوریائی پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان یلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کوریائی، چینی، تھائی اور جاپانی شوز کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نے لکھا، ’کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا۔‘
نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ،’کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریائی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے۔ ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے۔ معاف کرنا، پاپا۔‘

پولیس کے مطابق بہنیں کئی سال سے اسکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں، اور والد کی سخت تربیت سے دلبرداشتہ تھیں۔
بہنوں نے سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور انہوں نے علیزہ، ماریہ اور سِنڈی جیسے مغربی نام بھی رکھے تھے۔
والد چیتن کمار کو ان کے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا اور بچیوں کے فونز ضبط کر لیےاور انہیں کہا کہ وہ کوریائی مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں، جس سے وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں۔ کیونکہ انہیں وہ کوریائی شوز اور مواد دیکھنے کا موقع نہیں ملا جو وہ روزانہ فالو کرتی تھیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا، ’یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں۔ انہوں نے اسکول چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل پر دیکھنے میں صرف کیا۔ منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔‘
والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی بہت بڑی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے اسکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی کلاس 7 میں، دیگر دو کلاس 6 اور 5 میں اسکول چھوڑ چکی تھیں۔
والد کے مطابق، تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے حذف کر دیا، جس سے بہنیں بہت دل شکستہ ہو گئیں۔
حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں بند ہو گئیں۔ والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بہنیں مردہ حالت میں ملی۔
اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔
تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
پولیس نے کہا کہ کیس میں خاندان کے مالی دباؤ، والد کے سخت ڈسپلن اور بچوں کی آن لائن کوریائی دنیا سے لگاؤ سب پہلو شامل ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
ابتدائی طور پر پولیس اس کیس کو خودکشی کے طور پر دیکھ رہی ہے مگر ہر زاویے سے چھان بین کی جارہی ہے۔













