’لڑکی کا انتظام کرو‘: ایپسٹین اور امبانی فیملی کا تعلق بھی سامنے آگیا
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی فنانسر اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے کاروباری، سیاسی اور تعلیمی حلقوں سے روابط صرف امریکا تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کا دائرہ بھارت تک بھی پھیلا ہوا تھا۔ ان دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے برسوں تک بھارت کے ایک نمایاں کاروباری خاندان کے فرد انیل امبانی کے ساتھ تعلقات استوار کیے اور ان سے مسلسل رابطے میں رہا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیفری ایپسٹین اور انیل امبانی کے درمیان پیغامات کا تبادلہ 2017 کے آغاز سے 2019 تک جاری رہا، یعنی اس وقت تک جب ایپسٹین پر کم سن افراد کی اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد نہیں ہوئے تھے۔
2017 میں ایپسٹین نے امبانی خاندانی سے متعلق کچھ کتابیں بھی خریدیں تھیں، جن میں ان کی فیملی سے متعلق ذاتی معلومات درج تھیں۔
ان پیغامات میں دونوں کے درمیان عالمی امور، کاروبار، سماجی موضوعات اور ملاقاتوں کے منصوبوں پر گفتگو شامل تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویز میں میسیجز پر کی گئی کچھ گفتگو شامل تھی،جن میں سے ایک پیغام میں انیل امبانی نے ایپسٹین کو لکھا: ”تو تم کیا تجویز کرو گے؟“
جس کے جواب میں ایپسٹین نے جواب دیا: ”ایک لمبی سنہرے بالوں والی سویڈش عورت“۔
جس کے فوراً بعد انیل امبانی نے مختصر طور پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ”انتظام کرو“۔

دستاویزات کے مطابق ایپسٹین اور انیل امبانی کے درمیان پیرس میں ملاقات کے منصوبے بھی زیر بحث آئے، تاہم وہ ایک دوسرے سے مل نہ سکے۔
جنوری 2018 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی ان کے درمیان گفتگو ہوئی۔
مئی 2019 میں جب انیل امبانی نے نیویارک جانے کا ذکر کیا تو ایپسٹین نے انہیں ملاقات کی دعوت دی اور کہا کہ اگر وہ کسی سے خاموشی سے ملنا چاہتے ہیں تو آگاہ کریں۔
بعد ازاں ایپسٹین کے معاونین نے تصدیق کی کہ دونوں کے درمیان نیویارک میں ایپسٹین کے گھر ملاقات ہوئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، انیل امبانی کے نمائندے نے ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
یہ پیغامات اس بات پر مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ 2008 میں فلوریڈا میں کم سن افراد سے متعلق جرم قبول کرنے کے باوجود ایپسٹین کس طرح کئی برس تک دنیا کے طاقتور اور امیر افراد تک رسائی رکھتا رہا اور پرتعیش طرز زندگی گزارتا رہا۔
2019 میں گرفتاری کے بعد وہ جیل میں بظاہر خودکشی کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
ان دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2017 میں ایپسٹین نے امبانی خاندان پر لکھی گئی کئی ڈیجیٹل کتابیں منگوائیں، جن میں خاندان کی کاروباری تاریخ اور اندرونی اختلافات کا ذکر تھا۔
انیل امبانی اور ان کے بھائی مکیش امبانی کے درمیان والد دھیروبھائی امبانی کی وفات کے بعد کاروباری اثاثوں پر اختلافات رہے اور بالآخر دونوں نے کاروبار تقسیم کر لیا۔
مکیش امبانی اس وقت ایشیا کے امیر ترین شخص ہیں، جبکہ انیل امبانی کی مالی حالت گزشتہ برسوں میں خاصی کمزور ہوئی ہے۔
انیل امبانی کو اپنے ملک میں قانونی جانچ پڑتال کا بھی سامنا ہے۔
حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی اداروں کو انیل امبانی اور ان کی کمپنیوں پر مبینہ بڑے بینک قرض فراڈ کی تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ان دستاویزات میں شامل پیغامات اور روابط نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جیفری ایپسٹین کس طرح مختلف ممالک میں بااثر شخصیات تک رسائی حاصل کرتا رہا اور اس کا نیٹ ورک کس حد تک پھیلا ہوا تھا۔














