لاہور: سانحہ بھاٹی گیٹ کے مدعی نے ملزمان کو معاف کردیا

سانحہ بھاٹی گیٹ کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کی جہاں مقدمے کے مدعی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
شائع 10 فروری 2026 09:00am

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کے ورثا نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔ اس صلح کے بعد عدالت نے گرفتار کیے گئے پانچ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سانحہ بھاٹی گیٹ کیس کی سماعت پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کی جہاں مقدمے کے مدعی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

مدعی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے ملزمان کو معاف کر دیا ہے اور اب وہ ان کے خلاف کسی قسم کی مزید قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر ملزمان کو رہا یا مقدمے سے خارج کر دیا جائے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب ایک خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے سیوریج میں گر کر زندگی کی بازی ہار گئی تھیں۔ اس واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور انتظامیہ کی غفلت پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ابتدا میں حکام کی جانب سے اس واقعے کو مبینہ طور پر دبانے کی کوشش کی گئی اور یہ موقف اپنایا گیا کہ تکنیکی لحاظ سے کسی انسان کا اس ہول میں گرنا ممکن نہیں۔

دوسری طرف پولیس نے بھی اس معاملے کو گھریلو جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی اور خاتون کے شوہر پر مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے ان پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا تھا

مقدمے کے دوران اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہوا جب متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے خاتون کے والد ساجد حسین سے زبردستی سادہ کاغذات پر انگوٹھے لگوائے ہیں۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں ورثا شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

اب فریقین کے درمیان صلح ہو جانے کے بعد عدالت نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تمام گرفتار افراد کو رہا کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔