قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد 80 فیصد ادویات کی مارکیٹ میں واپسی
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 22 ماہ کے دوران قلت کا شکار ادویات میں سے 80 فیصد سے زائد ادویات مارکیٹ میں اب دستیاب ہیں اور ان کی دوبارہ پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے۔
پی پی ایم اے کے مطابق حالیہ عرصے میں مریضوں کی ادویات تک رسائی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جو واضح کرتا ہے کہ ادویات کی قلت کا بحران اب ختم ہوچکا ہے۔
ملک بھر میں 200 کے لگ بھگ ادویات کی پیداوار تقریباً دو سال قبل اس وقت بند ہو گئی تھی جب ان کی پیداواری لاگت، ریٹیل قیمتوں سے تجاوز کر گئی تھی۔ ادویات کی قلت کے نتیجے میں مریضوں اور طبی ماہرین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
ان ادویات میں ٹی بی، کینسر، ذیابیطس کے علاج کی ادویات، امراضِ قلب سمیت ماہرینِ نفسیات کی تجویز کردہ ادویات بھی شامل تھیں۔
تاہم فروری 2024 میں حکومت کی جانب سے ’نان ایسنشل ادویات‘ (غیر ضروری ادویات) کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد صورتِ حال معمول پر آ گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت فارما کمپنیوں کو اپنی ریٹیل قیمتیں خود مقرر کرنے کی اجازت مل گئی، جس سے پیداوار اور سپلائی چین بحال ہوگئی ہے۔
پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق مارکیٹ میں نایاب ہوجانے والی 200 ادویات میں سے 160 ادویات اب مقامی مارکیٹ میں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی 40 ادویات بھی آئندہ تین سے چار ماہ میں مارکیٹ میں آ جائیں گی۔ ان ادویات کی پیداوار درآمدی خام مال کی دستیابی سے مشروط ہے۔
توقیر الحق کے مطابق ’لائف سیونگ ادویات‘ کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔ حکومت نے گزشتہ 22 ماہ میں تقریباً 100 ضروری ادویات کی قیمتیں پیداواری لاگت سے بڑھانے کا فیصلہ کیا، جس سے صورتحال میں بہتری آئی۔
پی پی ایم اے کے ایک اور سابق چیئرمین کے مطابق مارکیٹ میں ادویات کی قلت کے حوالے سے شکایات میں ڈی ریگولیشن کے بعد کمی آگئی ہے۔
پی پی ایم اے کے دونوں سابق سرابرہان نے گزشتہ برسوں میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید کمی کو درآمدی خام مال اور پیداواری لاگت میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بڑی مقدار میں خام مال بھارت سے درآمد کرتا تھا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے اب یہ درآمد ممکن نہیں رہی جبکہ دنیا کے دیگر حصوں سے خام مال کی درآمد میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ڈی ریگولیشن سے ادویات کی قیمتیں بے قابو ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹرکچرل اصلاحات سے مینوفیکچررز کے درمیان مقابلہ بڑھ گیا اور ادویات کی مناسب قیمتوں پر دستیابی ممکن ہوئی۔ اصلی ادویات کی دستیابی سے جعلی اور بلیک مارکیٹ کا خاتمہ ہوا، جس سے ملک بھر میں اب معیاری ادویات دستیاب ہوگئی ہیں۔
توقیر الحق نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 700 فارماسیوٹیکل کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں لگ بھگ 10 ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں ان میں سے بڑی تعداد نے پیداوار کی بحالی اور اضافے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات سے نہ صرف مقامی پیداوار بحال ہوئی ہے بلکہ فارماسیوٹیکل برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025 میں برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دو دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس طرح فارماسیوٹیکل سیکٹر ملک کی تیز ترین بڑھتی ہوئی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی بیرونِ ملک فروخت بھی 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ تقریباً 9 کمپنیاں اب عالمی سرٹیفکیشنز حاصل کرچکی ہیں، جس سے انہیں یورپ اور امریکا جیسی ہائی اینڈ مارکیٹس میں فروخت کی اجازت مل سکے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ ایک سال کے دوران مزید 10 سے 12 کمپنیاں برآمدات کے لیے درکار سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے قریب ہیں۔
















