ادویات کی قیمتوں میں ڈی ریگولیشن سے فارما انڈسٹری بحران سے نکل آئی

فارماسیوٹیکل برآمدات 2025 میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا: سینئر وائس چیئرمین پی پی ایم اے
شائع 10 فروری 2026 05:16pm

پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری نے 2025 میں نمایاں ترقی ریکارڈ حاصل کی، جس کی بڑی وجہ ادویات کی قیمتوں میں ڈی ریگولیشن اور ساختی اصلاحات کو قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات نے نہ صرف بندش کے دہانے پر کھڑی صنعت کو سہارا دیا بلکہ برآمدات، پیداوار اور سرمایہ کاری میں بھی غیر معمولی اضافہ ممکن بنایا۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر کا کہنا ہے کہ 2025 میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں نمایاں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجہ فروری 2024 میں ’نان ایسنشل ادویات‘ کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن تھی۔ اس عمل میں ایس آئی ایف سی (اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل) نے کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پورے سیکٹر میں کمرشل وائیبلٹی کی بحالی کا سبب بنی اور اس نے فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور ایکسپورٹ پر مبنی ترقی کے لیے نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی۔ ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں مالی سال 2025 کے دوران فارماسیوٹیکل برآمدات میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ادویات کی قلت بھی ختم ہوئی جن کی پیداوار طویل عرصے سے جاری پرائس کنٹرولز کے باعث غیرمنافع بخش ہو چکی تھی۔

کامران ناصر نے کہا کہ اصلاحات سے قبل منافع کی شرح شدید دباؤ میں تھی، پیداواری یونٹس بند ہونے کے قریب تھے اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیز مارکیٹ سے نکلنے پر غور یا عمل کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن نے اس رجحان کو پلٹ دیا، پائیدار آپریشنز ممکن بنائے، ادویات کی دستیابی بہتر کی اور مریضوں تک مسلسل رسائی کو یقینی بنایا۔ مالی استحکام اور وسائل کی بہتر دستیابی کے باعث فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ’ایڈوانسڈ تھراپیوٹک سیگمنٹس‘ میں سرمایہ کاری کا موقع ملا۔

پی پی ایم اے کے وائس چیئرمین کے مطابق 2025 میں متعدد مقامی مینوفیکچررز نے ویکسینز، بایوٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات اور دیگر ایڈوانسڈ فارماسیوٹیکل سلوشنز میں توسیع کی۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کو روایتی جینیرکس سے آگے لے جانے اور عالمی فارماسیوٹیکل منظرنامے میں ایک مسابقتی، اعلیٰ درجے کے کھلاڑی کے طور پر ابھارنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی تبدیلی سے صنعت کو اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے کا موقع ملا ہے اور اب اسٹیک ہولڈرز اجتماعی طور پر 2030 تک پاکستان کو 5 سے 10 ارب ڈالر کی فارماسیوٹیکل ایکسپورٹ انڈسٹری بنانے کے ہدف پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ قیمتوں میں لچک نے کمپنیوں کو پلانٹس کی اپ گریڈیشن، جدید انفراسٹرکچر، بہتر ریگولیٹری کمپلائنس اور سخت بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں کے حصول میں سرمایہ کاری کے قابل بنایا جو پائیدار برآمدی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

کامران ناصر کے مطابق آئندہ عرصے میں ریگولیٹری استحکام، ریگولیٹری عمل کی مزید ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن کے لیے حکومتی معاونت اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لوکل مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا، جدت کو فروغ دینا اور عالمی معیار کے بینچ مارکس سے ہم آہنگی صنعت کی طویل المدتی صلاحیت کے حصول کے لیے کلیدی عوامل ہوں گے۔

فارما کمپنیوں کی عالمی سرٹیفکیشن

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں کم از کم آٹھ پاکستانی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح کی منظوری حاصل کی ہے، جن میں ڈبلیو ایچ او پری کوالیفکیشن، پی آئی سی/ایس ریکگنیشن اور ایم ایچ آر اے کی ایکریڈیٹیشن شامل ہیں۔

ان منظوریوں کے بعد پاکستانی فارما کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سمیت ریگولیٹڈ ہائی اینڈ عالمی مارکیٹس تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت آئندہ پانچ برسوں میں صنعت کے لیے 30 ارب ڈالر کی برآمدات کے حکومتی ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

توقیر الحق کے مطابق آئندہ ایک سے دو برسوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیاں ایسی عالمی سرٹیفکیشن حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔

80 فیصد ’غائب ادویات‘ دوبارہ دستیاب

پی پی ایم اے کے مطابق گزشتہ 22 ماہ کے دوران پاکستان میں ’غائب ادویات‘ میں سے 80 فیصد سے زائد دوبارہ پیداوار اور ریٹیل مارکیٹ میں آ چکی ہیں، جس سے ادویات کی قلت کے بحران پر قابو پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں حالیہ عرصے میں مریضوں کی ادویات تک رسائی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

تقریباً دو سال قبل ملک میں 200 کے لگ بھگ ادویات کی پیداوار اس وقت بند ہو گئی تھی جب ان کی لاگتِ پیداوار ریٹیل قیمتوں سے بڑھ گئی تھی۔ ان میں ٹی بی ، کینسر، ذیابیطس، کارڈیو ویسکیولر امراض اور سائیکاٹرسٹس کی تجویز کردہ لائف سیونگ ادویات بھی شامل تھیں۔

توقیر الحق کے مطابق ان میں سے تقریباً 160 ادویات دوبارہ مناسب قیمتوں پر مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

برآمدات میں دو دہائیوں کی بلند ترین 34 فیصد نمو

پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات نے مالی سال 2025 میں 34 فیصد اضافے کے ساتھ دو دہائیوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کی۔ اس دوران مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی بیرونِ ملک فروخت 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے باعث فارماسیوٹیکل سیکٹر ملک کی تیز ترین بڑھتی ہوئی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گیا۔

پی پی ایم اے کے مطابق مالی سال 2024 میں فارما برآمدات 341 ملین ڈالر تھیں۔ 34 فیصد اضافہ گزشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اس سے قبل بہترین کارکردگی 2009 میں 32 فیصد نمو کی صورت میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

دوسری جانب، تھیراپیوٹک گڈز — جن میں فارماسیوٹیکلز، سرجیکلز، فوڈ سپلیمنٹس، میڈیکل ڈیوائسز اور نیوٹراسیوٹیکلز شامل ہیں — کی برآمدات مالی سال 2025 میں 909 ملین ڈالر رہیں، جو ایک ارب ڈالر کی حد سے محض 91 ملین ڈالر کم ہیں۔

فارما انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا استعمال

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین ہارون قاسم کے مطابق پاکستان کی فارما انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے ادویات کی تیاری اور ڈرگ ری ایکشنز کی نشاندہی میں بہتری آ رہی ہے۔

ان کے مطابق اسٹارٹ اپ پر مبنی ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارمز سے لے کر بڑے صنعتی ایونٹس تک، سیکٹر اے آئی انٹیگریشن کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ڈرگ ڈیولپمنٹ سے لے کر مریضوں سے رابطے تک مختلف شعبوں میں فارما سیکٹر کو بتدریج تبدیل کر رہی ہیں۔

پاک-افغان سرحدی بندش سے برآمدات متاثر

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سیاسی بحران کے باعث پاک-افغان سرحد کی طویل بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس بندش نے افغانستان کو ادویات کی برآمدات کو شدید متاثر کیا، جو پاکستان کے لیے ایک اہم برآمدی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ان رکاوٹوں کے باعث تجارتی تاخیر اور مالی نقصانات ہوئے، جس سے پاکستانی فارما کمپنیوں کو نمایاں نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پی پی ایم اے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سرحد پار تجارت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش نے نہ صرف کاروبار کو متاثر کیا بلکہ افغانستان میں ضروری ادویات تک رسائی کو بھی خطرے میں ڈال دیا، جس سے خطے میں صحت کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔