فارما انڈسٹری کا پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ’ایم آرز‘ پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں میڈیکل سیلز ریپریزنٹیٹوز (ایم آرز) کے داخلے پر عائد پابندی ختم کی جائے یا کم از کم اس حوالے سے واضح ضابطۂ اخلاق (ایس او پیز) مرتب کیے جائیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حالیہ اقدامات سے نہ صرف روزگار متاثر ہو رہا ہے بلکہ مریضوں کے مفاد کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے پنجاب حکومت سے سرکاری اسپتالوں میں میڈیکل سیلز ریپریزنٹیٹوز (ایم آرز) کے داخلے پر عائد پابندی ختم کرنے اور ضرورت پڑنے پر ان دوروں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایس او پیز بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت نے سرکاری اسپتال میں قواعد کی خلاف ورزی پر تین میڈیکل سیلز ریپریزنٹیٹوز کو گرفتار کیا تھا، جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ پابندی کے باوجود اسپتال میں ڈاکٹروں سے ملاقات کے لیے داخل ہوئے۔
پی پی ایم اے نے پنجاب کے وزیر برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق کو خط لکھ کر ملاقات کی درخواست کی ہے اور پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے عملے کی گرفتاری پر تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے اس معاملے پر مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہماری وزیرِ صحت سے ملاقات ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کی بنیادی ذمہ داری ڈاکٹروں کو ادویات اور ان کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ صرف کاروبار نہیں، بلکہ دنیا بھر میں رائج ایک پیشہ ورانہ عمل ہے۔ اس طرح کی پابندیاں مریضوں کے مفاد میں بھی نہیں ہیں۔
سابق چیئرمین پی پی ایم اے کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو ایسے دوروں سے متعلق خدشات ہیں تو گرفتاریوں کے بجائے ایس او پیز بنائے جائیں جس میں دوروں کے اوقات مقرر کیے جائیں یا ہر وزٹ کے لیے گھنٹوں کی حد طے کی جائے۔
ان کا کہنا تھا میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کو فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو اعتماد میں لے کر ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے بجائے باقاعدہ فریم ورک بنایا جائے۔ وہ مجرم نہیں ہیں، ایک باعزت پیشہ ورانہ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں سرکاری اسپتالوں کو لاگت کی مناسبت سے قیمت پر ادویات فراہم کرتی ہیں تاکہ ہیلتھ کیئر سسٹم کو سہارا دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ کمپنیاں ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہی ہیں جو میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے طور پر کام کرتے ہیں۔
توقیر الحق کے مطابق یہ نوجوان ٹیکس دہندگان ہیں۔ اگر ان کی نوکریاں ختم ہوئیں تو وہ کہاں جائیں گے؟ ملک میں پہلے ہی روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ انہیں گرفتاری کے خوف میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے کہا تھا کہ ایسوسی ایشن صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور متوازن ردعمل دے گی، جس میں پنجاب حکومت سے رابطہ بھی شامل ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی ایسے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے نقصان دہ ہو۔
دوسری جانب پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے نجی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے سرکاری اسپتالوں میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو باضابطہ ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کے تحت اسپتال انتظامیہ کو خلاف ورزی کی صورت میں قانونی اور تادیبی کارروائی کا پابند بنایا گیا ہے، جن میں ڈاکٹرز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ادویات کے نسخوں پر غیرضروری اثر و رسوخ کو روکنا، مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کا خاتمہ کرنا اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو تجارتی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
















