لارنس بشنوئی گینگ کی دھمکیوں کے بعد رنویر سنگھ کی سیکیورٹی ہائی الرٹ
بولی ووڈ کے سپراسٹار رنویر سنگھ ممبئی میں سیکیورٹی خدشات کا شکار ہوگئے ہیں، جب انہیں واٹس ایپ پر ایک مبینہ دھمکی آمیز وائس نوٹ موصول ہوا جس میں کروڑوں روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ پیغام بھیجنے والے نے خود کو بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک بتایا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رنویر سنگھ، جو اداکارہ دیپیکا پڈوکون کے ساتھ اپنے ممبئی کے گھر میں رہائش پذیر ہیں، نے فوری طور پر ممبئی پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اداکار کی رہائش گاہ کے باہر اضافی نفری تعینات کر دی، جس میں نجی سیکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔
پولیس کی سائبر اور تکنیکی ٹیمیں وائس نوٹ کے اصل ماخذ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سیکیورٹی میں اضافے کی وجہ سے عمارت کے دیگر رہائشیوں میں اضطراب پیدا ہو گیا اور ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ نے پولیس سے وضاحت طلب کی کہ اتنی بڑی نفری اور مسلح گارڈز کی تعیناتی کیوں کی گئی ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عام علاقے میں مسلح اہلکاروں کی موجودگی انہیں مشکلات میں ڈال رہی ہے۔
پولیس حکام وائس نوٹ بھیجنے والے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل فلمساز روہت شیٹی کے جوہو، ممبئی میں واقع گھر کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق رات گئے نامعلوم افراد نے نو منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر کم از کم پانچ گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک گولی جم کے شیشے سے ٹکرائی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لارنس بشنوئی گینگ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور مبینہ گینگسٹر ارجو بشنوئی نے بھی ایک آڈیو پیغام میں خود کو ذمہ دار قرار دیا۔ اس کیس میں پونے پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لیا۔
تفتیشی حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا دونوں واقعات ایک دوسرے سے منسلک ہیں یا نہیں۔
لارنس بشنوئی گینگ شہرت یافتہ شخصیات کو دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ سنگین جرائم میں بھی ملوث رہا ہے۔ ان پر سنگر سدھو موسے والا کے قتل، بابا صدیقی پر حملہ، سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ، کپل شرما کے ریسٹورنٹ پر حملے اور دیگر متعدد جرائم کا الزام ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جا رہی ہے اور ذمہ داران تک پہنچنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
















