’والد کی ناکامیوں نےمجھے سپر اسٹار بنا دیا‘، انیل کپور کے چونکا دینے والے انکشافات
بولی ووڈ سپر اسٹار انیل کپور نے حال ہی میں اپنے والد کے فلمی سفر اور اپنی جدوجہد سے متعلق دلچسپ انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
چار دہائیوں پر محیط کیریئر کے بعد آج انیل کپور بھارتی فلم انڈسٹری کے مضبوط ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس سے ایک خصوصی گفتگو میں انیل کپور نے بتایا کہ ان کے والد سریندر کپور نے فلمی دنیا میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ ماضی کی کلاسک فلم ’مغل اعظم‘ میں ہدایت کار کے اصف کے اسسٹنٹ رہے۔
انیل کے مطابق کے آصف ان کے والد کی ایمانداری اور سادگی سے بےحد متاثر ہوئے اورانہیں فلم کی پروڈکشن سنبھالنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ راجستھان میں جنگی مناظر کی طویل شوٹنگ کے دوران انہوں نے مالی معاملات اور دیگر انتظامی امور بخوبی سنبھالے۔
بعد ازاں وہ اداکار شمی کپور کے منیجر بنے۔ انیل نے بتایا کہ شمی کپور کی اہلیہ گیتا بالی نے ان کے والد کو فلم پروڈکشن میں قدم رکھنے کا مشورہ دیا۔ تاہم بطور پروڈیوسر ان کا سفر آسان نہ تھا۔
بقول انیل کپور میں نے انہیں مشکل حالات سے گزرتے دیکھا تھا۔ فلم پروڈکشن ایک ایسا کام ہے جس میں اکثر محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ ایک فلم بنانا بہت بڑا اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ بطور پروڈیوسر ہر فلم کے لیے تاریخیں طے کرنا اور انتظام کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ بدقسمتی سے ان کی کوئی فلم نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکی اوریہی بات میرے لیے کامیاب ہونے کا اصل محرک بنی۔
انیل کپور نے اعتراف کیا کہ والد کی جدوجہد دیکھ کر ان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی کہ وہ خود ہیرو بن کر خاندان کا سہارا بنیں۔
انہوں نے کہا، ’میں چاہتا تھا کہ میرے والد کو دوسروں کے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔ میں ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں ہیرو بن سکتا ہوں۔‘
اپنے فنی سفر کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فلم ’ایشور‘ میں کردار ادا کرتے وقت وہ ہالی ووڈ فلم ’رین مین‘ اور اداکارڈسٹن ہاف مین کی اداکاری سے بے حد متاثر تھے۔ ان کے بقول ڈسٹن ہاف مین کی پرفارمنس بے مثال تھی اور وہ بھی کبھی ایسا کردار نبھانے کے خواہش مند تھے۔
















