جھوم برابر جھوم: کراچی میں جین زی کی نشوں سے پاک ریو پارٹی

'اسلامی اقدار کے اندر رہتے ہوئے جدید طرز زندگی اپنانے کی کوشش'
شائع 14 فروری 2026 09:53am

کراچی میں ایک انڈور اسپورٹس کلب کے اندر نیون لائٹس کی چمک میں نوجوان لڑکے لڑکیاں موسیقی پر جھوم رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں کافی اور آئسڈ ٹی کے کپ تھے، لیکن وہاں نہ شراب تھی اور نہ ہی نشہ۔ موسیقی بھی رات 10 بجے باقاعدہ طور پر بند کر دی گئی۔ یہ منظر پاکستان میں ابھرتے ہوئے ایک نئے سماجی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جسے ”سوبر سوشلائزنگ“ کہا جا رہا ہے، یعنی ایسی تقریبات جہاں نشہ آور اشیاء کے بغیر میل جول کیا جائے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نوجوان نسل، خاص طور پر جنریشن زی اس طرز زندگی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ تاہم پاکستان میں اس رجحان کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور شراب نوشی قانوناً ممنوع ہے، اس لیے نوجوانوں کے لیے ایسی تقریبات ایک محفوظ اور قانونی متبادل فراہم کر رہی ہیں۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

کراچی کے رہائشی اور سافٹ ویئر کاروباری شخصیت ضیاء ملک نے برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ شہر میں ایسے مقامات کم ہیں جہاں لوگ کھل کر سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا ماضی میں کچھ تقریبات خفیہ مقامات پر منعقد ہوتی تھیں جہاں شراب اور منشیات کی موجودگی کے باعث چھاپوں اور دیگر مسائل کا خدشہ رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں خود کو محفوظ محسوس کرنا مشکل ہوتا تھا، جبکہ موجودہ تقریبات میں کھلے عام شرکت ممکن ہے۔

تقریب میں شرکاء کی تعداد محدود رکھی گئی تھی۔ رقص کے وقفوں کے دوران نوجوان پیڈل کھیل رہے تھے، جو اسکواش اور ٹینس کا امتزاج ہے اور پاکستان میں مقبول ہو رہا ہے۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

اس ایونٹ کا اہتمام تجرباتی پلیٹ فارم ’12 ایکسپیریئنس‘ نے کیا تھا، جسے مقامی حکومت کی اجازت بھی حاصل تھی۔

منتظمین کے مطابق تقریب میں ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی تاکہ شراب پر پابندی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی لڑائی جھگڑے یا ہراسانی سے بچا جا سکے۔

12 ایکسپیریئنس کے بانی عثمان احمد کا کہنا تھا کہ مقصد ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں اور انہیں افراتفری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

تقریب کا انعقاد ’پیڈلورس‘ میں کیا گیا، اور اسی نوعیت کی تقریبات اب شہر کے مختلف اسپورٹس کلبز، کافی شاپس، آرٹ گیلریوں اور کو ورکنگ اسپیسز میں بھی منعقد ہو رہی ہیں۔

تقریب کے لمحات رائٹرز کے فوٹوگرافر نے بھی کیمرے میں محفوظ کیے۔

معاشی اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’یورو مانیٹر‘ کے مطابق 2020 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت میں 27 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ گرم مشروبات جیسے کافی کی کھپت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

یہ رجحان امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھا ہے۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

کراچی یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ سماجیات پروفیسر کوثر پروین کے مطابق نوجوان نسل مذہبی حدود سے باہر نہیں جا رہی بلکہ وہ سماجی زندگی کو نئے انداز میں ترتیب دے رہی ہے۔

ان کے خیال میں یہ تبدیلی اسلامی اقدار کے اندر رہتے ہوئے جدید طرز زندگی اپنانے کی کوشش ہے۔

خواتین کے لیے خصوصی تقریبات بھی مقبول ہو رہی ہیں۔ کراچی میں کامیڈین اور سوشل میڈیا انفلوئنسر امتل باویجا نے اپنے کیفے تھرڈ کلچر کافی میں خواتین کے لیے دیسی موسیقی کی رات کا اہتمام کیا، جہاں تقریب رات 9 بجے ختم کر دی گئی۔ اس موقع پر خواتین نے بلا جھجھک رقص کیا اور موسیقی سے لطف اندوز ہوئیں۔

ایک شریک خاتون فاطمہ نے بتایا کہ ایسے پروگراموں میں شرکت سے انہیں یہ فکر نہیں رہتی کہ کون دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریب کا جلد اختتام انہیں گھر واپسی میں بھی آسانی فراہم کرتا ہے۔

تاہم، یہ تقریبات جیب پر بھاری ہیں۔ ٹکٹ کی قیمت عموماً 3 ہزار سے 7 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ ملک میں ابتدائی سطح کی ماہانہ تنخواہ 30 سے 40 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ اس حساب سے ایک رات کی تفریح کافی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

اس کے باوجود یہ تقریبات نوجوانوں کے لیے ایک نمایاں اور قابل قبول تفریحی ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

تقریب میں شریک 27 سالہ ڈیٹا اینالسٹ شاہ زیب نے کہا کہ انہیں یہ بات پسند ہے کہ اب ایسی تقریبات خفیہ نہیں رہیں بلکہ عام لوگوں کے لیے دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر اور ویڈیوز کھلے عام شیئر کی جا سکتی ہیں، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔