”ہم نے کوئی سیاست نہیں کی“: پی ٹی آئی رہنماؤں کا محسن نقوی کے بیان پر ردِ عمل

بانی پی ٹی آئی کے علاج کے وقت فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی ضروری تھی، رہنما پی ٹی آئی
شائع 17 فروری 2026 06:28pm

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ شفافیت اور قانونی حقوق کے منافی ہے اور فیملی و ذاتی معالج کی موجودگی ضروری تھی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل سے واپسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ملاقات نہ کرانے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے کہنے پر آئے، اب ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ یہ رویہ غیر قانونی اورغیر آئینی ہے، ہم توقع کر رہے تھے کہ آج ملاقات ہو جائے گی، ہرکوئی بانی کی صحت کے بارے میں مستند خبر چاہتا ہے، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کیسی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتیں نہ کرانے کی وجہ سے ملک کرائسز میں ہے، ملاقات ہو جاتی تو ہمیں اصل صورت حال پتہ چل جاتی، آپ بضد ہیں کسی کی ملاقات نہیں کرانی، فروری 2025 سے لیڈر شپ کی ملاقات بند ہے، پاکستان کی سیاست کا مین آف دی میچ بانی پی ٹی آئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارابنیادی مطالبہ بانی کی شفاءانٹرنیشنل اسپتال منتقلی ہے، مطالبہ تھا بانی پی ٹی آئی تک فیملی، ذاتی معالج کو رسائی دی جائے، حکومت نےکہا اڈیالہ آجائیں، پارٹی نے مشورہ کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے، یہ بات غلط ہے کہ ملاقات کا کہا جاتا ہے اور ہم نہیں آتے۔

اس موقع پر سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم بطور وکیل آج یہاں آئے ہیں، ہمارے مقدمات سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں، ہمارا بنیادی حق ہے کہ ہم بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لیں، آج ہمیں بطور وکیل نہیں ملنے دیا گیا، بانی کا حق ہے وہ اپنی فیملی سے ملیں، فیملی کا بھی حق ہے جو بات ہے وہ باہر آکر ہمیں بتائے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے آپ کسی کو بات کرنے سے روکیں، یہ کہنا بانی کی فیملی سیاسی بات نہیں کریں گی، سراسر غیر آئینی ہے، ہماری کوئی بیک ڈور بات نہیں چل رہی، جو بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی، طبی معائنے میں بیرسٹر گوہرنے شریک ہونے سے ٹھیک انکار کیا، فیملی کا حق تھا وہ طبی معائنے کے وقت موجود ہوں، ہم میں سے کوئی بھی جاتا قوم کو تسلی نہیں ہونی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ شفافیت کا تقاضا تھا فیملی ممبر یا ذاتی معالج وہاں موجود ہو، ایک وکیل کا یا سیاسی رہنما کا وہاں ہونا بے معنی تھا، ہم خانہ پوری کے لیے نہیں جانا چاہتے تھے، ہم نے طبی معائنے میں شریک ہونے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا، ہم شریک ہوتے تو اس کو استعمال کیا جانا تھا۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان اور سلمان اکرم راجہ کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ماربل فیکٹری ناکے سے دونوں رہنما واپس روانہ ہوگئے۔ دونوں رہنماؤں کا نام ملاقات کی فہرست میں شامل تھا۔

اس قبل لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی گوہرعلی خان کو کہا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل آ جائیں تاکہ ان کی موجودگی میں معائنہ ہو سکے۔ ہم ایک گھنٹے تک انتظار کرتے رہے اور بیرسٹر گوہر نہیں آئے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی رہنماؤں اور ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک بریفنگ لی اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے علاج کے معاملے پر بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان کی 85 فیصد بینائی جا چکی ہے، حالانکہ حکومت نے ان کا معائنہ بہترین سرکاری اور نجی ڈاکٹروں سے کرایا۔ میڈیکل رپورٹ اب ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں سب کچھ واضح ہے۔