جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رمضان کا چاند کیسے دیکھا جاتا تھا؟
اسلامی کیلنڈر میں چاند کی رُویت مرکزی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ رمضان، عیدین اور حج جیسے اہم فرائض اسی عمل پر منحصر ہوتے ہیں۔ سائنسی ترقی کے اس دور میں جدید دوربینیں اور کمپیوٹرائزڈ نظام موجود ہیں مگر آج بھی اس عمل میں ’انسانی آنکھ‘ کی گواہی کو خاص مقام حاصل ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان ہر سال ماہِ شعبان کے آخری ایام میں چاند کی ایک جھلک کے منتظر ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا سے امریکا اور روس سے افریقہ تک مسلمان غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر نظریں جمائے چاند دیکھنے یا سرکاری اعلان کے منتظر رہتے ہیں۔
اسلامی مہینوں کا تعین قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے جو سورج کے بجائے چاند کی گردش پر مبنی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر اسلامی مہینہ چاند کی رویت سے شروع ہوتا ہے اور 29 یا 30 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
رمضان المبارک بھی اسی اصول کے تحت شروع ہوتا ہے۔ مسلمان 29 شعبان کی شام سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر چاند تلاش کرتے ہیں۔
اگر چاند نظر آ جائے تو اسی رات تراویح کی نماز ادا کی جاتی ہے اور اگلی صبح سے روزے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے 30 دن مکمل کیے جاتے ہیں اور رمضان اس کے اگلے دن شروع ہوتا ہے۔
پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں رویتِ ہلال کی تصدیق سرکاری ذرائع، مساجد اور میڈیا کے ذریعے کی جاتی ہے۔ جبکہ مسلم اقلیتی ممالک میں مقامی مساجد میں قائم مراکز رویتِ ہلال کا اعلان کرتے ہیں۔

چاند کی رویت چوں کہ جغرافیائی محلِ وقوع پر منحصر ہوتی ہے اس لیے بعض اوقات پڑوسی ممالک یا حتیٰ کہ ایک ہی ملک کے مختلف شہروں میں رمضان کا آغاز مختلف دنوں میں ہوتا ہے۔ کہیں مقامی رویت کو ترجیح دی جاتی ہے جب کہ بعض مقامات پر مخصوص ممالک کے فیصلوں کی پیروی کی جاتی ہے۔
سائنسی ترقی کے اس دور میں رویتِ ہلال کے لیے جدید دوربینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ قدیم اسلامی تاریخ میں چاند دیکھنے کے لیے سائنسی آلات اور مشاہدے کا ایک جامع نظام رائج تھا۔
چوں کہ اسلام میں چاند کو انسانی آنکھ سے دیکھنا (رویتِ بصری) لازمی ہے اس لیے قدیم دور میں چاند دیکھنے کا سب سے بنیادی طریقہ یہ تھا کہ لوگ اونچے مقامات پر جمع ہو کر آسمان پر چاند تلاش کرتے تھے۔
چاند دیکھنے کے لیے مساجد کے میناروں یا شہر کے باہر اونچی پہاڑیوں پر مشاہدہ گاہیں بنائی جاتی تھیں۔ لوگ چاند نظر آنے پر ڈھول بجا کر یا آگ جلا کر چاند نظر آنے کا اعلان کرتے تھے۔
معاشرتی ارتقاء کے ساتھ یہ رواج تبدیل ہوتے گئے جس کے بعد بڑے شہروں میں توپ کے گولے یا بندوق سے فائر کر کے عوام میں چاند نظر آنے کا اعلان کیا جاتا تھا۔
مسلمان جیسے جیسے مختلف سائنسی علوم میں مہارت حاصل کرتے گئے ویسے ہی چاند دیکھنے کے طریقوں میں بھی جدت آتی چلی گئی اور رویتِ ہلال کا عمل آسان اور منظم ہوگیا۔

آج جب علمی مراکز کی بات ہوتی ہے تو آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے اداروں کا نام لیا جاتا ہے مگر ایک وقت تھا جب دنیا کی نظریں بغداد پر جمی ہوتی تھیں۔
خلافتِ عباسیہ کے دور میں ہی مسلمانوں نے ’علمِ فلکیات‘ میں کمال حاصل کیا۔ اب چاند دیکھنے کے لیے صرف انتظار نہیں کیا جاتا تھا بلکہ پہلے حساب لگایا جاتا تھا کہ چاند کی پیدائش کس وقت ہوگی اور وہ کتنی دیر اُفق پر رہے گا۔
خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں آٹھویں صدی میں ’بیت الحکمت‘ یا ’ہاؤس آف وِزڈم‘ قائم کیا جو نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے علم و تحقیق کا ایسا مرکز بنا جس نے صدیوں تک علمی روایت کی سمت متعین کی۔
فلکیاتی حساب کتاب اور چاند دیکھنے کے رصد گاہوں (آبزرویٹریز) کا قیام رویتِ ہلال کا سب سے اہم اور جدید طریقہ بن کر ابھرا جس نے محض اتفاقی مشاہدے کو ایک باقاعدہ سائنس میں بدل دیا۔
عباسی خلافت کے ساتویں خلیفہ مامون الرشید نے بیت الحکمت کو عروج تک پہنچایا۔ ان کے دور میں مغرب سے قدیم یونان کے عظیم مفکر، فلسفی اور سائنسدان افلاطون، ارسطو، بطلیموس، بقراط اور اقلیدس کی تصانیف منگوائی گئیں اور ان کا لفظ بہ لفظ عربی میں ترجمہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی اُفق سے بلندی اور سورج و چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ہونا چاہیے کہ چاند انسانی آنکھ سے نظر آ سکے۔
مشہور مسلم سائنس دان اور ’الجبرا‘ کے مؤجد محمد بن موسیٰ الخوارزمی وہ پہلے مسلمان سائنسدان مانے جاتے ہیں جنہوں نے چاند کی رویت کے لیے باقاعدہ ریاضیاتی معیار وضع کیا۔

ان کے بعد ابو عبداللہ محمد بن جابر بن سنان الحرانی نے چاند دیکھنے (رویتِ ہلال) کے عمل کو ریاضیاتی بنیادوں پر آسان اور منظم کیا، دنیا انہیں ’البَتّانی‘ کے نام سے جانتی ہے۔
انہوں نے چاند کی رویت کے لیے باقاعدہ ایک سائنسی معیار وضع کر کے چاند کی پوزیشن معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
مشہور یونانی ماہرِ فلکیات بطلیموس (کلاڈیئس ٹولیمی) کی کتاب ’المیجسٹ‘ ایک عرصے تک فلکیات کی سب سے مستند کتاب مانی جاتی رہی۔ عباسی دور میں اس کتاب کا ترجمہ عربی میں ہوا، جس سے مسلمان سائنسدانوں نے علمِ فلکیات سیکھا اور پھر اس کی غلطیوں کی اصلاح کی۔
البتانی نے اپنی مشہور کتاب ’الزیج الصابی‘ (دی صابیئن ٹیبلز) میں سورج اور چاند کی پوزیشن کے نئے اور درست ترین جدول (ٹیبل) تیار کیے اور بطلیموس (کلاڈیئس ٹولیمی) کے طریقوں کی تصحیح کی اور ہجری کیلنڈر کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
البتانی کی تحقیق اتنی مستند تھی کہ صدیوں بعد مشہور ماہرینِ فلکیات ’نکولس کوپرنیکس‘ اور ’گیلیلیو‘ جیسے یورپی سائسدانوں نے بھی ان کے کام سے استفادہ کیا۔ ان کے علاوہ ابو ریحان البیرونی نے بھی چاند اور ستاروں کی حرکت پر کام کر کے اس علم کو مزید وسعت دی۔
اسلامی تاریخ کے سنہری دور میں مسلمان سائنسدانوں نے چاند اور ستاروں کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے آلات تیار کیے تھے جس سے افق پر چاند کے زاویے کا درست اندازہ لگایا جاتا تھا۔
مسلمان سائنس دانوں نے ’آسٹرولیب‘ نامی ایک قدیم سائنسی آلہ یونانیوں سے حاصل کرنے کے بعد اس پر کام کیا اور اس حد تک ترقی دی کہ یہ اپنے دور کا ’کمپیوٹر‘ بن گیا۔ یہ آسمان کا ایک دو جہتی (ٹو ڈی) نقشہ تھا جس کے ذریعے چاند، سورج اور ستاروں کی درست پوزیشن معلوم کی جاتی تھی۔
یہ دن کے وقت سورج اور رات کے وقت ستاروں کی مدد سے وقت بتانے کا سب سے مستند ذریعہ تھا اور قِبلے کے رخ سمیت کئی دیگر کاموں میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔

جیسے جیسے علمِ فلکیات نے ترقی کی اور نئے آلات ایجاد ہوئے، چاند دیکھنے کے لیے باقاعدہ رصد گاہیں (آبزرویٹریز) قائم ہوگئیں۔
یہ وہ مخصوص مقام یا عمارت ہوتی ہے جہاں سے چاند، سورج، ستارے اور سیاروں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر کسی بلند مقام پر واقع ہوتی ہے تاکہ بادلوں اور آلودگی سے پاک صاف آسمان کا مشاہدہ ممکن ہو سکے۔
نویں صدی عیسوی میں خلیفہ مامون الرشید نے بغداد میں ’الشماسیہ رصد گاہ‘ قائم کی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ’رویت‘ کو باقاعدہ ریکارڈ کیا جانے لگا۔ یہیں پر فلکیاتی نقشے تیار ہوئے جن کی مدد سے یہ معلوم کرنا ممکن ہوگیا کہ کس تاریخ کو چاند نظر آنا ناممکن ہے اور کس دن یقینی ہے۔
ان رصد گاہوں کے قیام کا ایک بڑا مقصد ہی رمضان اور عیدین کے لیے چاند کی رویت اور نماز کے اوقات کا درست سائنسی تعین کرنا تھا۔
آج کے اس جدید دور میں بھی چاند دیکھنے کے لیے رصد گاہوں اور انہی علوم کا استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس کے ذرائع تبدیل ہوگئے ہیں۔
اب کچھ ممالک اور شہروں میں رصد گاہیں شہروں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنائی جاتی ہیں جہاں آلودگی نہ ہو یا پھر شہر کی مشہور عمارات پر چاند دیکھنے کا انتظام ہوتا ہے۔
آسٹرولیب سمیت دیگر آلات کی جگہ کمپیوٹرائزڈ ٹیلی اسکوپ اور تھرمل کیمروں نے لے لی ہے۔ یہ کیمرے دن کی روشنی میں بھی چاند کا سراغ لگا لیتے ہیں کیوں کہ یہ سورج کی روشنی کے بجائے چاند کی تپش کو محسوس کرتے ہیں۔

ماہرینِ فلکیات جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حساب لگا لیتے ہیں کہ چاند کس سیکنڈ پر، کس زاویے پر اور کتنی بلندی پر نظر آسکتا ہے۔ مگر یہ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئرز ریاضی کے انہی فارمولوں اور علوم کے محتاج ہیں جو سینکڑوں سال پہلے مسلمان سائنس دانوں نے متعارف کرائے تھے۔
پاکستان میں اس مقصد کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی قائم ہے، جو چاند کی رویت کے حوالے سے اجلاس منعقد کرتی ہے جس میں محکمہ موسمیات کے ماہرین اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء شریک ہوتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک میں رمضان کے لیے انسانی شہادت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رویتِ ہلال کمیٹی چاند واضح نظر نہ آنے پر ملک بھر سے گواہیاں جمع کرتی ہے اور انہیں شرعی لحاظ سے پرکھ کر رمضان اور عید کا اعلان کیا جاتا ہے۔

















