ایمازون وین برطانیہ کے خطرناک ترین مڈ فلیٹس پر پھنس گئی
برطانیہ میں ایمازون کی ڈیلیوری وین جی پی ایس پر نقشہ دیکھتے دیکھتے دلدل میں پھنس گئی۔ یہ علاقہ برطانیہ کی وزارتِ دفاع کی شوٹنگ رینج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
برطانیہ میں ایک ایمازون ڈلیوری وین ایک انتہائی خطرناک ساحلی راستے پر پھنس گئی جب ڈرائیور نے جی پی ایس کے اشارے پر مڈ فلیٹس کے ذریعے تھیمز ایسچری کے ایک جزیرے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ یہ جزیرہ فوجی استعمال میں ہے۔
ایچ ایم کوسٹ گارڈ ساؤتھ اینڈ آن سی نے سوشل میڈیا پربتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کو وین کے مڈ فلیٹس میں پھنسنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد امدادی کارروائی شروع کی گئی۔
یہ راستہ، جسے برووم وے کہا جاتا ہے، چھ سو سال پرانا ہے اور فولنس جزیرے تک جاتا ہے۔ اس کے خطرناک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مد و جزر بہت تیزی سے آتا ہے اور کئی لوگ اس راستے پر چلتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برووم وے کی شہرت اتنی زیادہ ہے کہ ایڈورڈین دور کے اخبارات نے اسے ”ڈوم وے“ کا نام دیا تھا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق جب امدادی ٹیم پہنچی، تو وین کا ڈرائیور پہلے ہی محفوظ مقام پر پہنچ چکا تھا، اور وین بعد میں ایمیزون کی جانب سے نکالی گئی۔ وین پر ڈرائیور اور ایک مسافر سوار تھے۔
ساؤتھ اینڈ کوسٹ گارڈ کی ٹیم نے کہا کہ برووم وے گاڑیوں کے لیے نہیں ہے اور صرف ایسے افراد اس پر چلیں جو مڈ فلیٹس سے واقف ہوں اور گائیڈ کے ساتھ ہوں۔ یہ علاقہ وزارت دفاع کی ملکیت میں ہے اور صرف اس وقت جانے کی اجازت ہے جب فائرنگ رینجز بند ہوں اور بیریئر کھلا ہو۔ درست راستہ فولنس جزیرے تک بائیں جانب سے کینیٹیک سیکورٹی آفس کے ذریعے ہے۔
کوسٹ گارڈ کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح ڈرائیور اور مسافر کی حفاظت اور کسی بھی ممکنہ ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ تھی۔ خوش قسمتی سے دونوں محفوظ تھے اور وین بعد میں اتار دی گئی۔ وین اتوار کو سہ پہر 3:30 بجے ہٹا دی گئی۔
یہ واقعہ جی پی ایس پر مکمل انحصار کرنے کے خطرات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ چھوٹے سے غلط قدم سے جان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
















