پیر محمد شاہ دوبارہ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی تعینات
سندھ حکومت نے سید پیر محمد شاہ کو ایک بار پھر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی تعینات کرتے ہوئے موجودہ ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز شیخ سے چارج واپس لے لیا ہے۔
اس حوالے سے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ تقرری چیف سیکریٹری سندھ کی منظوری کے بعد کی گئی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
سید پیر محمد شاہ گریڈ 20 کے پاکستان پولیس سروس کے افسر ہیں اور ماضی میں بھی اسی عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔کچھ عرصہ قبل پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ان پر ایک تاجر کی جانب سے اغوا کی کوشش اور مبینہ تاوان طلب کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ آئی جی سندھ پولیس نے اس معاملے پر ان سے وضاحت طلب کی تھی۔
آئی جی سندھ کے ایک خط کے مطابق 19 دسمبر 2025 کو حیدرآباد میں تاجر کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 31 کروڑ روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
تاجر دانش متین نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 جنوری کو وہ ڈیفنس فیز 6 سے اپنے دفتر جا رہے تھے کہ سفید گاڑی میں سوار تین افراد نے انہیں روک لیا اور زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی۔
تاجر کے مطابق دو افراد نے پولیس جیسی وردی پہن رکھی تھی اور ان سے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم کا مطالبہ کیا گیا۔
دانش متین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی روز ان کے گھر فون کر کے 30 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا۔
تاجر کے بیان کے مطابق بعد میں ہائی وے کے قریب 10 لاکھ روپے لینے کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور وہ رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اپنے دفتر کے نزدیک واپس پہنچے۔ اس واقعے کے بعد 22 جنوری کو گزری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
ایس ایس پی حیدرآباد کے مطابق اس کیس میں ملوث تین اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، جن میں ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبل شامل ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں حیدرآباد پولیس کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اسی واقعے کے تناظر میں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی سطح پر تبدیلی کی گئی تھی اور پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ مظہر نواز شیخ کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔














